عنوان:تراویح میں حافظ قرآن کے تین تسبیح کی مقدار خاموش رہنےکا حکم
مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ تراویح کی نماز میں حافظ دوران قرات تین تسبیح کی مقدار خاموش ہو جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ باحوالہ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں!

احمد رضا ،امرپور، پتھرا، گڈا،جھارکھنڈ، انڈیا

 

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب:دورانِ قرأت امام اگر چھینک، کھانسی وغیرہ آنے کی وجہ سے خاموش رہا تب تو سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا اور اگر کچھ سوچتے ہوئے یا عمداً بلاوجہ تین تسبیح کی مقدار خاموش رہاتو سجدۂ سہو واجب ہوجائے گا،درمختارمیں ہے :’’ اذا شغلہ الشک فتفکر قدر اداء رکن ولم یشتغل حالۃ الشک بقراء ۃ، وجب علیہ سجود السہو‘‘۔(الدر المختار مع حاشیتہ رد المحتار، باب سجود السہو،ج:۲، ص:۹۴، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ:جب کوئی شک میں پڑجائے اور وہ ایک رکن کی ادائیگی کی مقدار غورکرتارہے اور حالتِ شک میں قرأت میں مشغول نہ ہوا تو اس پرسجدہ سہو لازم ہوگا۔
ردالمحتار میں ہے:’’التفکر الموجب للسھو مالزم منہ تاخیر الواجب اوالرکن عن محلہ بان قطع الاشتغال بالرکن اوالواجب قدر اداء رکن و ھوالاصح ‘‘۔(ملخصاً،رد المحتار، باب سجود السہو،ج:۲، ص:۹۴، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ:ایسا سوچنا جو سہو کا سبب ہے وہ ہوگا جو واجب یا رکن کو اپنے مقام سے مؤخر کردے مثلاً ادائے رکن کی مقدار کسی رکن یا واجب سے اعراض کر لیا جائے یہی اصح ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان اﷲ کہہ لیتا تو یہ سکوت اگر بربنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں، تو سجدہ سہو واجب ہے اگر نہ کیا تو اعادہ نماز کا واجب ہے ، اور اگر وہ سکوت عمداً بلاوجہ تھا جب بھی اعادہ واجب ‘‘۔ (فتاوی رضویہ قدیم، ج:۳، ص:۶۳۷، رضااکیڈمی، ممبئی)
اسی میں ہے:’’جتنی دیر میں تین بار سبحان اﷲ کہہ لیتا اتنے وقت تک سوچتا رہا تو سجدہ سہو لازم ہے ورنہ نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، ج:۳، ص:۶۳۰، رضااکیڈمی، ممبئی)
اسی میں ہے:’’اگر ایک بار بھی بقدرادائے رکن مع سنت یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کی مقدار تک تامل کیا سجدہ سہو واجب ہوا‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، ج:۳، ص:۶۳۱، رضااکیڈمی، ممبئی،۱۴۱۵ھ؁/۱۹۹۴ء)
ایک امام نماز میں قرأت کے درمیان ایک منٹ سے زیادہ ساکت رہا اس کے متعلق اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سےحکم پوچھا گیا آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا:’’ایک منٹ تو بہت ہوتا ہے اگر بقدر تین تسبیح کے بھی ساکت رہا تو سجدہ سہو لازم ہے، اصل حکم یہی ہے، ردالمحتار میں خاص اس کی تصریح ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ قدیم، ج:۳، ص:۶۳۱، رضااکیڈمی، ممبئی)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’ قرأت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے وقفہ ہوا سجدۂ سہو واجب ہے‘‘۔ (بہارشریعت، ح:۴،ج:۱، ص:۳۱۶، فرید بک ڈپو، دہلی)
صورت مسئولہ میں اگر حافظ صاحب چھینک یا کھانسی وغیرہ اعذار کی وجہ سے خاموش ہوئے تو سجدۂ سہو نہیں ہے اور اگر تفکر(سوچنے) یا بلاوجہ بقدرِ ادائے رکن مع سنتہ خاموش رہے تو سجدۂ سہو واجب ہےاگر نہیں کیا تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی، درمختار میں ہے:’’تعاد وجوبا فی العمد والسھو ان لم یسجد لہ‘‘۔(الدر المختار مع حاشیتہ رد المحتار، واجبات الصلاۃ،ج:۲، ص:۴۵۶، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ:دانستہ یا نادانستہ سجدہ سہو نہ کیا تو نماز کا لوٹانا واجب ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم

Previous articleشوہربدکار، نشیڑی اور شرابی ہو تو کیا عورت اس سے خلع لے سکتی ہے؟
Next articleمائکرو فونک نماز قدیم و جدید فقہا کی نظر میں