عنوان:روزہ کی حالت میں غسل کرنے کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ زید سحری کھا کر سو گیاجب نیند سے اٹھا تو وہ احتلام کی حالت میں تھاتو اب وہ روزے کی حالت میں غسل کیسے کرے؟ بینوا توجروا

سائل:سید غلام قادر،آگرہ، یوپی

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب:جو جنبی ہے اس پر غسل کرنا فرض ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’وَ اِنۡ کُنۡتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا‘‘۔(المائدۃ،۶/۵)
ترجمہ:اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہو لو ۔(کنزالایمان)
جس پر غسل فرض ہے چاہے وہ روزہ دار ہو یا نہ ہو ہر ایک کے لیے غسل میں تین فرائض ہیں:پہلا فرض مضمضہ؛یعنی منہ کے ہر گوشے اور ہر پرزے میںحلق تک پانی پہنچنا جیسا کہ در مختار میں ہے:’’فرض الغسل غسل کل فمہ ‘‘۔(الدر المختار مع حاشیتہ ابن عابدین، کتاب الطہارۃ، ج:۱، ص:۱۵۱،دار الفکر بیروت)
ترجمہ:غسل میں پورے منہ کو دھونافرض ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:’’فالمضمضۃ اصطلاحا استیعاب الماء جمیع الفم ‘‘۔(رد المحتار علی الدر المختار(فتاوی شامی) کتاب الطہارۃ،ج:۱، ص:۱۱۵، دارالفکر، بیروت)
ترجمہ:اصطلاح میں مضمضہ یہ ہے کہ پانی پورے منہ کا احاطہ کرے ۔
دوسرا فرض استنشاق؛ یعنی ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تک دھلنا جیسا کہ فتاوی شامی میں بحرالرائق کے حوالہ سے ہے:’’الاستنشاق اصطلاحا ایصال الماء الی المارن،ولغۃ من النشق وھو جذب الماء ونحوہ بریح الانف الی داخلہ‘‘۔(رد المحتار علی الدر المختار(فتاوی شامی) کتاب الطہارۃ،ج:۱، ص:۱۱۵، دارالفکر، بیروت)
ترجمہ:اصطلاح میں استنشاق کا معنی ناک کے نرم حصہ تک پانی پہنچانا۔اور لغت میں یہ لفظ نشق سے لیاگیا ہے جس کامعنی پانی اور اس جیسی چیز کو سانس کے ذریعہ ناک کے اندر کھینچنا۔
تیسرا فرض اسالۃ الماء علی ظاھر البدن؛ یعنی سر کے بالو ں سے تلووں سے نیچے تک جسم کے ہر پرزے،رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا تقاطر کے ساتھ بہہ جانا ، درمختار میں ہے:’’یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلاحرج‘‘۔(الدر المختار مع حاشیتہ ابن عابدین، کتاب الطہارۃ، ج:۱، ص:۱۵۲،دار الفکر بیروت)
ترجمہ:بدن کا ہر وہ حصہ دھونا فرض ہے جسے بغیر حرج کے دھونا ممکن ہے۔
جس پر غسل فرض ہے اس کو غسل کرنے کے لیے ان تینوں فرائض کا ادا کرنا لازمی ہے اگر ان میں کوئی کمی ہوگی تو غسل نہیں ہوگا۔غرغرہ یا غرارہ میں اور استنشاق میں مبالغہ کرنا یہ وضو و غسل میں سنت ہے لیکن جو روزہ دار ہو اس کو مبالغہ کرنا مکروہ ہے جیساکہ درمختار میں ہے:’’و المبالغۃ فیہما بالغرغرۃ، و مجاوزۃ المارن لغیر الصائم لإحتمال الفساد ‘‘۔(الدر المختار مع حاشیتہ ابن عابدین، کتاب الطہارۃ، ج:۱، ص:۱۱۶،دار الفکر بیروت)
ترجمہ:وضو و غسل میں غرغر ہ کر کے اور ناک کی نرم ہڈی سے اوپر پانی پہنچا کر مبالغہ سنت ہے اس کے لئے جو روزہ دار نہ ہو ، روزہ دار کے لئے نہیں کیونکہ اس میں روزہ جانے کا احتمال ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ روزہ دار کے غرغرہ (غرارہ) کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:’’ہاں غرغرہ اُسے (روزہ دار کو) نہ چاہیے کہ کہیں پانی حلق سے نیچے نہ اترجائے، غیر روزہ دار کے لیے غرغرہ سنت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، کتاب الطہارۃ، ج:۱، ص:۹۵، رضااکیڈمی، ممبئی)
اِسی میں استنشاق (ناک میں پانی چڑھانے کے متعلق) یوں ہے:’’ہاں اس (نرم ہڈی) سے اوپر تک اُسے (پانی چڑھانا) نہ چاہیےکہ کہیں پانی دماغ کو نہ چڑھ جائے، غیر روزہ دار کے لیے یہ بھی سنت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، کتاب الطہارۃ، ج:۱، ص:۹۶، رضااکیڈمی، ممبئی)
صورت مسئولہ میں چونکہ زید روزہ دار ہے لہذا اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ غسل کے تمام فرائض کو احتیاط کے ساتھ ادا کرے نیز غرارہ اور استنشاق میں مبالغہ نہ کرے۔ واللہ تعالی أعلم

Previous articleفاسقِ معلن کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا حکم
Next articleجمعہ اور پسینہ کی بدبو کی وجہ سے احترام مسجد کے لیے معتکف کے غسل کا حکم