
عنوان:کیا حضور ﷺ حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا کی گود میں سر رکھ کر آرام فرماتے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے بیان میں کہا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم آرام فرمانے کے لیے اپنے چچا حضرت عباس رضی الله عنہ کے گھر تشریف لے جاتے، حضرت عباس رضی الله عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت ام الفضل رضی الله عنہا یعنی اپنی چچی کی گود میں سر رکھ کر آرام فرماتے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا اپنے بیان میں یہ واقعہ بیان کرنا درست ہے یا غلط؟ اگر درست ہے تو کون سی معتبر و مستند کتاب میں مذکور ہے اور اگر غلط و من گھڑت ہے تو زید پر کیا حکم عائد ہوگا؟
حضرت ام الفضل رضی الله عنہا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی محرم تھیں یا غیر محرم ؟ جواب کو دلائل و براہین سے مدلل فرمایا جائے۔ بینوا و توجروا
المستفتی: محمد جاوید اقبال رضا قادری ،ساکن: ناروال، پنجاب، پاکستان
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:حضرت ام الفضل بنت حارث رضی الله عنہا، ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث کی حقیقی بہن اور حضرت عباس رضی الله عنہ کی زوجہ ہیں آپ خواتین میں حضرت خدیجہ رضی الله عنہا کے بعد سب سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم پر ایمان لے کر آئیں اور آپ نواسۂ رسول، حضرت امام حسین رضی الله عنہ کی رضاعی ماں اور اعلی نسب رکھنے والی خاتون تھیں۔
حضور صلی الله علیہ وسلم مکہ شریف میں اپنے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب سے قریبی رشتہ رکھنے کی وجہ سے ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے اور وہاں قیلولہ فرماتے۔
حضرت ام الفضل رضی الله عنہا کے اسلام لانے کے کچھ سال بعد حضرت عباس رضی الله عنہ بھی مسلمان ہوگیے، پھر آپ نے اسلام لانے کے بعد اپنی زوجہ حضرت ام الفضل رضی الله عنہا کے ساتھ مدینہ شریف ہجرت فرمائی تب حضور صلی الله علیہ وسلم ان کے یہاں کثرت سے آتے جاتے، وہاں قیلولہ فرماتے اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے بعدِنبوت حضرت ام الفضل کے علاوہ کسی غیر محرم عورت کی گود میں سر نہیں رکھا کہ وہ آپ کے بالوں کو سنوارتیں اور چشمان مبارک میں سرمہ لگاتیں تھیں ۔
طبقات ابن سعد میں ہے:’’اخبرنا عبد الله بن نمیر، عن الاجلح قال: سمعت زید بن علی بن حسین یقول: ما وضع رسول الله صلی الله تعالی علیه وسلم رأسه فی حجر إمرأة ولا تحل له بعد النبوة الا ام الفضل فانها كانت تفليه و تكحله‘‘۔(كتاب الطبقات الكبير لمحمد بن سعد، ج: ١٠ ،ص: ٢٦٤، مكتبة الخانجي بالقاهرة)
الخصائص الکبری میں ہے :’’اخرج ابن سعد، عن زید بن علی بن حسین قال: ما وضع رسول الله صلی الله علیه وسلم رأسه فی حجر إمرأة لا تحل له بعد النبوّة الا امّ الفضل زوج العباس فانها كانت تفليه و تكحله‘‘۔(الخصائص الكبرى، ج: ٢، ص: ٢٢٩، دار الكتب العلمية)
لہذا صورت مسئولہ میں زید کا اپنے بیان میں اس واقعہ کو ذکر کرنا درست ہے۔ والله تعالى اعلم
حضرت ام الفضل حضور صلی الله علیہ وسلم کی غیر محرم تھیں لیکن پھر بھی آپ کا گود میں سر رکھ کر آرام فرمانا یہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے جیسا کہ عمدۃ القاري شرح صحيح البخاري ميں ہے:’’ان من خصائص النبی صلی الله عليه وسلم جواز الخلوة بالاجنبية والنظر إليها كما ذكرنا في قصة أم حرام بنت ملحان في دخوله عليها، ونومه عندها وتفليها رأسه ولم يكن بينهما محرمية ولا زوجية‘‘۔ (عمدۃ القاری کتاب النکاح ج، ٢٠ ص، ١٩١-١٩٢، دار الکتب العلمیة) والله تعالی اعلم


