فتوی نمبر:797

عنوان: بد مذہبوں سے ہارنے پر ان کا مذہب قبول کرنے کی بات کرنا

زید نے بدمذہبوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ اعلی حضرت کے ماننے والوں کا عقیدہ کوئی قرآن و حدیث کے خلاف ثابت کر دے تو اس کو ۵۱؍ہزار کا انعام ملےگا، اور ہم تمہارا (یعنی بدمذہبوں کا) دین و مسلک بھی قبول کر لیں گے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کا یہ کہنا از روئے شرع کیسا ہے؟

مستفتیان: عوامِ اہل سنت، قصبہ رچھا، بریلی شریف

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب: اہل سنت و جماعت فرقہ ناجیہ ہے بر صغیر کے مختلف فرقے خود کو مسلمان کہہ کر ایمان و اسلام کی غلط توضیح و تشریح کرکے اپنے باطل مذہب کو عام کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں ان کے مقابل اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے دلائل و براہین سے باطل کا رد کیا، حقانیت و صداقت کو اپنی توضیحات و تشریحات سے لوگوں پر واضح فرمایا۔ بلا شبہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم و خلف و سلف کے طریقے پر ہیں اور تمام باطل فرقوں کے مقابل انہیں کا طریقہ حق و صواب و راہِ نجات ہے لیکن پھر بھی زید کا بد مذہبوں سے اس طرح چیلنج کرنا کہ شکست کی صورت میں وہ ان کا باطل مذہب اختیار کرلےگا یہ سخت ناجائز و حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے جیسا کہ حضرت علامہ یحییٰ بن شرف نووی دمشقی شافعی تحریر فرماتے ہیں:’’(فصل) يحرم أن يقول إن فعلت كذا فأنا يهودي أو نصراني أو برئ من الإسلام ونحو ذلك فإن قاله وأراد حقيقة تعليق خروجه عن الإسلام بذلك صار كافرا في الحال وجرت عليه أحكام المرتدين وإن لم يرد ذلك لم يكفر لكن ارتكب محرماً فيجب عليه التوبة وهي أن يقلع في الحال عن معصيته ويندم على ما فعل ويعزم على أن لا يعود إليه أبدا ويستغفر الله تعالى ويقول: لا الٰه الا الله محمد رسول الله ‘‘۔(الأذكار من كلام سيد الأبرار،باب فی الفاظ یکرہ إستعمالہا، ج:١،ص:٤٣٤،مکتبہ نزار مصطفی الباز)
ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے:’’حرام ہے، اور اگر دل میں ہے کہ دوسرا شخص غالب ہوگا تو وہ شخص اپنے مذہب کو چھوڑ دےگا تو یہ کفر ہے۔ ائمہ کرام کی تصریح ہے کہ جو شخص کفر کا ارادہ کرے مضافا یا معلقا ابھی کافر ہو گیا مضافا یہ کہ مثلا ارادہ کرے بیس برس بعد کفر کرےگا تو ابھی کافر ہو گیا کہ کفر پر راضی ہوا، اور معلق کی شکل یہ ہے کہ اگر وہ کام ہو جائے یا نہ ہو تو وہ شخص کفر کرےگا ہاں اگر دل میں یہ ہے کہ یقینا میں ہی غالب آؤں گا تو کفر نہیں‘‘۔(الملفوظ، حصہ:۴،صفحہ:۳۴۷، مکتبہ قادریہ)
صورت مسئولہ میں اگر زید کا دل اس بات پر مطمئن تھا کہ وہ ہی غالب ہوگا تو کفر نہیں ہے البتہ اس طرح کہنا سخت ناجائز و حرام ہے اور اگر معاذ الله! زید مستقبل یا فی الحال کفر پر راضی ہے تو یہ کفر ہے۔ اگر زید کا دل ایمان و اسلام پر مطمئن ہو پھر بھی زید پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس شنیع و قبیح کلام سے توبہ و رجوع کرے، علامہ محمد بن علی بن علّان البکری تحریر فرماتے ہیں:’’یستحب لکل من تکلم بکلام قبیح ان یستغفر اللہ وتجب التوبۃ من کلام محرم‘‘۔(الفتوحات الربانیۃ، جلد: ۴، صفحہ: ۵۲، دارالکتب العلمیۃ بیروت)۔ واللہ تعالی أعلم

Previous articleدھوکہ دے کر منریگا اسکیم کے پیسے حاصل کرنا
Next articleنشہ کی حالت میں طلاق کا حکم