عنوان:ذبح میں تین نسیں کٹنے کے بعد مرغی کی گردن توڑنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرغی وغیرہ ذبح کرتے وقت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذبح کرنے والے دو تین نس کاٹنے کے بعد گردن توڑ دیتے ہیں۔ اور اگر پوچھا جائے کہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایسا نہیں کرنے سے مرغی بہت دیر تک تڑپتی رہتی ہے۔ ایسی صورت میں ذبح کرنے والے کا یہ عمل درست ہے یا نہیں، کیا ایسی صورت میں مرغی حلال ہو جائے گی؟
المستفتی:احمد رضا،امرپور،پوسٹ پتھرا، ضلع گڈا، جھارکھنڈ
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:گلے میں چند رگیں ہوتی ہیں جن کو ذبح میں کاٹا جاتا ہے اسی کے کاٹنے کو ذبح کہتے ہیں حدیث شریف میں ہے:’’الذكاة ما بين اللبة و اللحيين‘‘۔(نصب الراية لأحاديث الهداية، ج:۴، ص:۱۸۵)
ترجمہ:ذبح لبہ اور دو جبڑوں کے درمیان ہے۔
فتاوی عالم گیری میں ہے:’’والعروق التی تقطع فی الذکاۃ أربعۃ؛ الحلقوم وہو مجری النفس، والمریٔ وہو مجری الطعام، والودجان وہما عرقان فی جانبی الرقبۃ یجری فیہا الدم‘‘۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الذبح، ج:۵، ص:۲۸۷،دارالفکر، بیروت)
ترجمہ:وہ رگیں جن کو ذبح میں کاٹا جاتا ہے چار ہیں؛ حلقوم: جو سانس کے آنے جانے کی جگہ ہے،مری:جس سے کھانا جاتا ہے،ودجان:یہ دونوں رگیں گردن کی جانب ہیں جن سے خون جاری ہوتا ہے۔
اسی میں ہے:’’الذبح ہو فری الأوداج و محلہ ما بین اللبۃ و اللحیین‘‘۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الذبح، ج:۵، ص:۲۸۵،دارالفکر، بیروت)
ترجمہ:ذبح اوداج کو کاٹنا ہے اور اس کا محل لبہ اور دو جبڑوں کے درمیان ہے۔
کنزالحقائق میں ہے:’’الذبح قطع الأوداج‘‘۔(کنز الحقائق،کتاب الذبائح، ص:۳۶۱)
ترجمہ:ذبح کی اوداج کو کاٹنا ہے۔
اسی میں ہے:’’والذبح بین الحلق واللبۃ ‘‘۔(کنز الحقائق،کتاب الذبائح، ص:۳۶۲)
ترجمہ:ذبح حلق اور لبہ کے درمیان ہے۔
صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’جو رگیں ذبح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں۔حلقو م: یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے۔ مری: اس سے کھانا پانی اُترتا ہے ان دونوں کے اغل بغل اور دو رگیں ہیں جن میں خون کی روانی ہے ان کو ود جین کہتے ہیں‘‘۔ (بہار شریعت، ح:۱۵، ج:۲،۶۷۱،فریدبُک ڈپو، دہلی)
ذبح کی چار رگوں میں سے کم از کم تین کا کٹنا ضروری ہے، اسی طرح اگر چاروں رگوں میں سے ہر ایک کا اکثر حصہ کٹ جائے تب بھی جانور ذبح ہو جائے گا لیکن اگر صرف دو یا اُس سے کم ہی رگیں کٹیں یا چاروں رگوں میں سے ہرایک کا کم حصہ ہی کٹا تو ایسی صورت میں جانور حلال نہ ہوگاجیسا کہ فتاوی عالم گیری میں ہے:’’فإن قطع کل الأربعۃ حلت الذبیحۃ، وإن قطع أکثرہافکذلک عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی‘‘۔(الفتاوی الہندیۃ، کتاب الذبح، ج:۵، ص:۲۸۷،دارالفکر، بیروت)
ترجمہ:اگر چاروں رگیں کٹ گئیں تو ذبیحہ حلال ہے اور اگر ان میں سے اکثر کٹ گئیں تب بھی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک یہی حکم ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’چاروں رگوں میں سے تین کٹ جانے پر مدار ہے، اگر ایک یا دو رگ کٹی حلال نہ ہوگا‘‘۔(فتاوی رضویہ، قدیم، ج:۸، ص:۳۱۸، رضا اکیڈمی، ممبئی)
اسی میں ہے:’’اجماعِ ائمہ ماست کہ اگر سہ رگ بریدہ شود ذبیحہ حلال ست‘‘۔(فتاوی رضویہ، قدیم، ج:۸، ص:۳۱۹، رضا اکیڈمی، ممبئی،۱۴۱۵ھ/۱۹۹۴ء)
ترجمہ:ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ اگر تین رگیں کٹ گئی ہوں تو ذبیحہ حلال ہے۔
اسی میں ہے:’’کم از کم تین رگیں کٹنا لازم ہے، اور اگر تین سے کم رگیں کٹیں مردار ہوگیا‘‘۔(ملخصاً، فتاوی رضویہ، قدیم، ج:۸، ص:۳۱۹، رضا اکیڈمی، ممبئی،۱۴۱۵ھ/۱۹۹۴ء)
بہار شریعت میں ہے:’’ذبح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا کہ اکثر کے لیے وہی حکم ہے جو کل کے لیے ہے اور اگر چاروں میں سے ہر ایک کا اکثر حصہ کٹ جائے گا جب بھی حلال ہو جائے گا اور اگر آدھی آدھی ہر رگ کٹ گئی اور آدھی باقی ہے تو حلال نہیں‘‘۔ (بہار شریعت، ح:۱۵، ج:۲،۶۷۱،فریدبُک ڈپو، دہلی)
صورت مسئولہ میں اگر ذبح کرنے والا صرف دورگوں کے کٹنے یا پوری تین رگیں کٹنے سے پہلے ہی مرغی وغیرہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس کی گردن توڑ دیتا ہے اور ذبح میں چاروں رگوں یا ان میں سے اکثر کو نہیں کاٹتا ہے تو ایسی مرغی وغیرہ مردار کے حکم میں ہے جیسا کہ فقہائے کرام کی نقل کردہ عبارات سے ثابت ہے اور اگر چاروں رگیں یا ان میں سے اکثر کو کاٹنے کے بعد ایسا کرتا ہے تو جانور کی گردن کو توڑ کر اس کو اذیت دینا مکروہ ہے لیکن اس گوشت کا کھانا حلال ہے جب کہ کوئی دوسرا مانع شرعی نہ پایا جاتا ہوجیسا کہ بہار شریعت میں ہے:’’ہر وہ فعل جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو ٹھنڈا ہونے سے پہلے اوس کی کھال اوتارنا اوس کے اعضاکاٹنا یا ذبح سے پہلے اوس کے سر کو کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا‘‘۔ (بہار شریعت، ح:۱۵، ج:۲،۶۷۳،فریدبُک ڈپو، دہلی)
لہذا اگر ذبح کرنے والا ٹھیک طریقہ سے ذبح کرتا ہو اس کے بعد ٹھنڈا کرنا کے لیے گردن توڑتا ہو تو اس کو اس فعلِ مکروہ سے منع کیا جائے اور اگر تین رگیں کٹنے سے پہلے ہی گردن توڑکر جانور کو ٹھنڈا کرتا ہوتواُس گوشت کو ہرگز ہرگز نہ کھایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم