عنوان:شرابی کے مال سے بنوائی گئی مسجد کا حکم

السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
حضرت خیریت سے ہیں؟
ایک سوال تھا رہنمائی فرمائیں؛ایک شخص ہے جو شراب کی تجارت کرتا ہے، اس شخص نے اپنی رقم سے مسجد بنائی ہے، اس میں اور کسی کی رقم نہیں لگی ہے، مسجد بن کر تیار ہو گئی ہے،اب سوال یہ ہے کہ اس میں نماز پڑھنا جائز ہے، کہ نہیں، اور ناجائز ہے تو جائز کی صورت کیا ہوگی، دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔

محمد امین رضا خاں،رہپورہ چودھری، عزت نگر، بریلی شریف

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ!بخیر و عافیت صحت و سلامتی کے ساتھ ہوں۔

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب: شراب کی تجارت کرنے والے نے اگر مسجد مالِ حلال سے بنوائی تو وہ بِلاشبہ مسجد ہوگئی اس میں نماز پڑھنے والوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا، اگر شراب کی تجارت سے کمائے ہوئے پیسوں سے مسجد بنوائی تو چونکہ شراب کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے:’’إن اللہ و رسولہ، حرم بیع الخمر والمیتتۃ والخنزیر والأصنام‘‘۔(صحیح البخاری، ج:۳، باب بیع المیتۃ و الأصنام، ص:۸۴، دارطوق النجاۃ، ۱۴۲۲؁/صحیح المسلم، ج:۳، باب تحریم بیع الخمر الخ، ص:۱۲۰۷، دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
ترجمہ:بیشک اللہ اوراس کے رسول نے حرام کردیا شراب اورمردار اورسؤر اوربتوں کا بیچنا ۔
شراب کی تجارت ناجائز و حرام ہے تو اس کی کمائی بھی ناجائز ہوئی اور ناجائز آمدنی کی رقم سے اگرچہ مسجد تعمیر کرانا جائز نہیں لیکن اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ شرعاً مسجد ہو جائے گی اور اس میں نماز پڑھنا بھی جائز ہوگا جب کہ زرِ حرام پر عقد و نقد جمع نہ ہوئے ہوں کیونکہ ایسی صورت میں خریدی ہوئی شیٔ میں خبث نہیں آئے گا جیسا کہ شمس الائمہ حضرت امام سرخسی علیہ الرحمہ[م۴۸۳ھ؁] تحریر فرماتے ہیں:’’و إن اﺷﺘﺮی ﺑﻬﺎ، و ﻧﻘﺪ ﻏﻴﺮﻫﺎ، أو اﺷﺘﺮی ﺑﺪراﻫﻢ ﻣﻄﻠﻘﺔ، ﺛﻢ ﻧﻘﺪﻫﺎ: ﻳﻄﻴﺐ ﻟﻪ اﻟﺮﺑﺢ ﻫﻨﺎ؛ ﻷن اﻟﺪراﻫﻢ ﻻ ﺗﺘﻌﻴﻦ ﺑﻨﻔﺲ اﻟﻌﻘﺪ، ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﻨﻀﻢ إﻟﻴﻪ اﻟﺘﺴﻠﻴﻢ‘‘۔(المبسوط للإمام السرخسی، کتاب الودیعۃ، ج:۱۱، ص:۱۱۲، دار المعرفۃ، بیروت)
ترجمہ: اور اگر ان دراہم (مالِ خبیث) کو دکھا کر کسی چیز کو خریدا اور ادا دوسری چیز کو کیا یا مطلقاً دراہم کے بدلے خریدا اور اس (مال خبیث) کو ادا کیا تو اس سے جو منافع ہوگا وہ حلال ہوگااس لیے کہ اگر دراہم کے ساتھ سپردگی نہ ہو تو وہ نفسِ عقد سے متعین نہیں ہوتے ہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے:’’ﺫﻛﺮاﻟﻜﺮﺧﻲﺭﺣﻤﻪاﻟﻠﻪ ﻭﺟﻌﻞ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻰأﺭﺑﻌﺔأﻭﺟﻪ: ﺇﻣﺎأﻥﻳﺸﻴﺮ ﺇﻟﻴﻬﺎﻭﻳﻨﻘﺪ ﻣﻨﻬﺎ،ﻭﺇﻣﺎ أﻥ ﻳﺸﻴﺮ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﻭﻳﻨﻘﺪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮﻫﺎ، ﻭﺇﻣﺎ أﻥ ﻳﺸﻴﺮ ﺇﻟﻰﻏﻴﺮﻫﺎ ﻭﻳﻨﻘﺪ ﻣﻨﻬﺎ، ﻭﺇﻣﺎ أﻥ ﻳﻄﻠﻖ ﺇﻃﻼﻗﺎ ﻭﻳﻨﻘﺪ ﻣﻨﻬﺎ، ﻭﺇﺫا ﺛﺒﺖ اﻟﻄﻴﺐ ﻓﻲ اﻟﻮﺟﻮﻩ ﻛﻠﻬﺎ، ﺇﻻ ﻓﻲ ﻭﺟﻪ ﻭاﺣﺪ ﻭﻫﻮ أﻥ ﻳﺠﻤﻊ ﺑﻴﻦ اﻹﺷﺎﺭﺓ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﻭاﻟﻨﻘﺪ ﻣﻨﻬﺎ‘‘۔(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج:۷، فصل فی حکم الغصب، ص:۱۵۵، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ترجمہ: امام کرخی علیہ الرحمہ نے اس کی چار صورتیں بیان فرمائی ہیں: پہلی صورت یہ کہ مال خبیث کی طرف اشارہ کرے اور اسی کو ادا کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مال خبیث کی طرف اشارہ کرے اور اس کے علاوہ کو ادا کرے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مال خبیث کے علاوہ کی طرف اشارہ کرے اور مال خبیث کو ادا کرے۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ مطلق مال کا ذکر کرے اور مال خبیث کو ادا کرے تمام صورتو ں کا طیب ہونا ثابت ہے سوائے اس ایک صورت کے کہ جب نقد و اشارہ دونوں جمع ہوں۔
تنویر الابصار میں ہے:’’تصدق بالغلۃ کما لو تصرف فی المغصوب اوالودیعۃ وربح اذاکان متعینا بالاشارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ او الغصب ونقدھا، وان اشارالیہا ونقد غیرہا اوالٰی غیرہا اواطلق ونقدھا لا، وبہ یفتی‘‘۔(تنویر الأبصار مع شرحہ رد المحتار علی الدر المختار، مطلب فی رد المغصوب الخ، ج:۶، ص:۱۸۹، دار الفکر بیروت، ۱۴۱۲ھ؁)
ترجمہ: اور باقی ماندہ منفعت کو صدقہ کرے، جیسے اس نے مغصوب اور ودیعت میں تصرف کیااور اس سے نفع حاصل ہوا جبکہ وہ مغصوب یا و دیعت متعین ہو چاہے اشارہ سے متعین ہو یا غصب و ودیعت کے دراہم کے بدلے خریدنے اور انہی دراہم کو اداکرنے سے متعین ہواور اگر اشارہ دراہم غصب وودیعت کی طرف کیا اور ادا دوسرے درہم کئے یا اشارہ دراہم غصب وودیعت کے غیر کی طرف کیا اور ادا دراہم غصب و ودیعت کئے یاذکر مطلق دراہم کا کیا بلااشارہ کے اور ادا دراہم غصب وودیعت کئے تو ان تینوں صورتوں میں منفعت صدقہ نہ کرے، اسی پر فتوی دیا گیاہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ اس کو تفصیل سے یوں تحریر فرماتے ہیں:’’اور اگر خود اپنا روپیہ مختلط بلکہ حرام ہواور اُس سے مسجد یوں بنائے کہ زمین و خشت وغیرہماآلات کی خریداری میں زرِحرام پرعقد و نقدجمع نہ ہو تومذہبِ امام کرخی پر کہ اب وہی مُفتٰی بہ ہےان خریدی ہوئی اشیا میں خباثت اثر نہ کرے گی بل استحسن فی الطریقۃ المحمدیۃ الافتاء بمااوسع من ھنا وھوان الخبث لایسری فی الابدال مطلقا اذاکان ذلک فیمالایتعین فی البیع کالدراھم والدنانیرحرام پر عقد کے یہ معنی کہ زرِحرام دکھا کر کہے اس کے عوض فلاں شیٔ دے دے، اور نقد کے یہ معنی کہ پھر زرِ حرام ہی اس کے معاوضہ میں دے، ا گر مطلقاً بغیر روپیہ دکھائے کوئی چیز خریدے اور پھر زرِحرام عوض میں دیا تو یہ دینا اگرچہ اسے حرام تھا،لانہ فیہ بادائہ الی من کان لہ وان لم یبق ھو ولاوارثہ اولم یعرف فالتصدق وھذا عدول عنھما فلایجوزبلکہ بائع کو بھی لینا حرام تھا جبکہ اسے معلوم ہوکہ یہ روپیہ عین حرام اور اس کے پاس بلا ملک ہے جیسے غصب ورشوت واجرتِ زنا وغیرہ کا روپیہ مگر جبکہ حرام پر عقد نہ ہوافردمطلق پر ہواخریدی ہوئی شیٔ میں خبث نہ آیا، یونہی اگر زرِ حرام دکھا کر کہا اس کے عوض فلاں شیٔ دے دے، جب اس نے دے دی اس نے وہ روپیہ ثمن میں نہ دیا بلکہ زرِحلال دیاتو اب اگرچہ عقد حرام پر ہوا مگر نقد اس کا نہ ہوا، ان دونوں صورتوں میں مذہب مفتٰی بہ پر ابدال یعنی خریدی ہوئی چیزیں حلال رہتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہاں عام خریداریاں اسی صورت اولیٰ پر ہوتی ہیں کہ حرام پر عقد نہیں ہوتا، اور اگر بالفرض بعض آلات پر اتفاقاً ایسا ہوا ہو تو اس کا حال معلوم نہیں، وقد قال فی الاصل بہ ناخذمالم نعرف شیئا حراما بعینہ تو ایسی مساجدکی مسجدیت اور ان میں نماز کی صحت میں شک نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، جلد ششم، ص:۳۹۸،رضا اکیڈمی، ممبئی،۱۹۹۴ء؁)
اسی میں آپ بازاری عورت کے پیسوں سے چٹائی اور افطار وغیرہ کے حکم کو تحریر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اگر وہ کہے کہ قرض لے کر اس سے یہ چٹائی یا افطاری خریدی ہے جب تو اصلاً جائے سخن نہیںکما افادہ فی العالمگیریۃ من الحظر ورنہ زرحرام کے عوض خریدی ہوئی چیز میں خباثت جب آتی ہے کہ عقد ونقد دونوں زر حرام پر جمع ہوں کہ حرام روپیہ دکھاکر کہے اس کے عوض دے دے پھر قیمت میں وہی زر حرام دے، ایسا بہت کم ہوتا ہے،تو عام خریداریوں میں خبث آنا معلوم نہیں تو منع حکم نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، جلد ششم، ص:۴۶۹،رضا اکیڈمی، ممبئی،۱۹۹۴ء؁)
اسی میں ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ سے ان مساجد کے بارےمیں حکم شرع معلوم کیا گیا جو ایسی مسلمان بائیوں (عورتوں) کے نام سے بنی ہوئی ہیں کہ جن کو کافر راجہ نے ظلما اپنی مجامعت میں رکھ لیا تھا ان عورتوں نے راجہ سے مال کثیر لیا اور اس سے مسجدیں بنوائیں تو آپ اس کا تفصیلی جواب تحریر فرماتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:’’رابعاً بالفرض یہ روپیہ حرام ہی ہوتا تو امام کرخی کے مذہب مفتی بہ پر مسجد کی طرف اس کی خباثت سرایت نہ کرسکتی جب تک اس پر عقد ونقد جمع نہ ہوتے یعنی وہ روپیہ دکھاکر بائعوں سے اینٹ کڑیاں زمین وغیرہا خریدی جاتیں کہ اس روپے کے عوض میں دے پھر وہی زرحرام ثمن میں ادا کیا جاتا۔ظاہر ہے کہ عام خریداریاں اس طور پر نہیں ہوتیں تو اب بھی ان مسجدوں میں اثر حرام ماننا جزاف و باطل تھا۔‘‘(فتاوی رضویہ قدیم، جلد ششم، ص:۴۸۲،رضا اکیڈمی، ممبئی،۱۹۹۴ء؁)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ سود، شراب اور رشوت وغیرہ کے روپیہ کو مسجد و مدرسہ میں لگانے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں یوں تحریر فرماتے ہیں:’’مسجد، مدرسہ وغیرہ میں بعینہٖ روپیہ نہیں لگایا جاتا بلکہ اس سے اشیا خریدتے ہیں، خریداری میں اگر یہ نہ ہوا ہوکہ حرام دکھا کر کہا کہ اس کے بدلے میں فلاں چیز دے، اُس نے دی، اس نے قیمت میں زرِ حرام دیا، تو جو چیز خریدیں وہ خبیث نہیں ہوتی، اور اکثر یہی صورت ہوتی ہے، مسجد میں نماز، مدرسہ میں تحصیلِ علم جائز ہے‘‘۔ (ملخصاً، احکام شریعت، حصہ اول، ۱۱۰،قادری کتاب گھر بریلی شریف،۱۹۹۴ء؁)
فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’اور ناجائز آمدنی کے روپیہ سے مسجد تعمیر کراناجائز نہیں لیکن اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ شرعاً مسجد ہے اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ ‘‘ (فتاوی فیض الرسول، ج:۱، ص:۳۵۸)
لہذا ایسی مساجد کو شرعاً حکمِ مساجد میں مان کر بلاشبہہ نماز کے جائز ہونے کا حکم دیا جائے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

 

Previous articleہنود کو جھٹکے کا مرغا بیچنے کا حکم
Next articleوہابی سے تعلقات اور رشتے داری کا حکم