
فتوی نمبر:795
عنوان: گھر کا خرچ ساجھے داری سے ہو تو بچے کے دودھ کے پیسے گھر سے دیناکیسا
حضور عرض یہ ہے کہ ایک گھر کا خرچ دو بھائی چلاتے ہیں دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوئی کہ کھانے کا خرچ دونوں مل کر اٹھائیں گے باقی اپنا اپنا لیکن جس وقت یہ بات طے ہوئی تھی اس وقت دونوں بھائی شادی شدہ تو تھے لیکن کسی کے بھی بچے نہیں تھے بعد میں ایک بھائی کے یہاں بچہ پیدا ہوا بچے نے کچھ دن ماں کا دودھ پیا پھر گائے کا دودھ پینے لگا تو کیا یہ دودھ اس خرچ میں شامل ہوگا یا نہیں کیونکہ بچے کا کھانا تو دودھ ہی ہے۔اگر شمار ہوگا تو اگر کچھ دن وہ بھائی جس کا بچہ ہے خود اپنے پیسو سے دودھ منگواتا رہا پھر جب اس نے دوسرے بھائی سے کہا کہ یہ دودھ کی پیسے بھی گھر کہ خرچ میں شمار ہونگے اور دوسرے بھائی نے منع کر دیا کہ نہیں ہونگے ،تو اب شریعت اس بارے میں ان بھائیوں کی کیا رہنمائی کرتی ہے۔
سائل: محمد بلال عطاری،کندرکی مرادآباد
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب: نفقہ لغت میں اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا اور شرعا کھانا کپڑا اور رہنے کے مکان کو کہتے ہیں،محمد بن اسماعیل طحطاوی متوفی ۱۲۳۱ھ علیہ الرحمہ فرماتےہیں:’’ھی لغة ماینفقہ الانسان علی عیالہ وشرعا ھی الطعام والکسوة والسکنی وعرفا ھی الطعام ‘‘۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، جلد: ۵، صفحہ: ۱۳۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
تین اسباب کی بنا پر دوسرے کا نفقہ آدمی پر واجب ہوتاہے،امام ابوبکربن علی حداد یمنی علیہ الرحمہ متوفی ۸۰۰ھ فرماتےہیں:”و تجب النفقة علی الانسان بثلثة انواع بالزوجیة والنسب والملک “۔{الجوھرةالنیرة جلد: ۲ صفحہ ۲۶۱، دارالکتب العلمیۃ بیروت)
مذکورہ عبارت میں نفقہ کا ایک سبب نسب بھی ہےجس میں ماں باپ ، دادا دادی ، نانا نانی اور اولاد بھی شامل ہے اگر اولاد محتاج نہیں ہے تو اپنی اولاد کا نفقہ بھی واجب ہے اگرچہ یہ لوگ کمانے پر قادرہوں،امام قدوری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’وعلی الرجل ان ینفق علی ابویہ و اجدادہ و جداتہ اذا کانوا فقرآء و ان خالفوہ فی دینہ ولاتجب النفقة مع اختلاف الدین الا للزوجة والابوین والاجداد والجدات والولد و ولدالولد “۔(مختصرالقدوری، صفحہ ۱۶۵،۱۶۶ مجلس البرکات )
بچے کی کفالت کی ذمہ داری ماں باپ پرہے،فتاوی ہندیہ میں ہے:’’نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة‘‘۔(فتاوی ہندیہ، جلد ۱، صفحہ ۵۸۲، دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اسی میں ہے:’’و بعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب و تدفع إلى الأم حتي تنفق علي الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقةً تدفع إلى غيرها لينفق على الولد‘‘۔(ایضًا، ۵۸۳)
لہذا صورت مسئولہ میں جبکہ دونوں بھائی گھر کا خرچ آپس میں مل کر چلاتے ہیں عام طریقہ سے یہ وجہ ہوتی ہے کہ محبت ومودت کے ساتھ ایک میں رہیں کم خرچ ہو ساتھ میں رہنے کی برکتیں حاصل ہوں۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ دودھ کا خرچ یہ گھر سے ہی دیا جائے تاکہ دوسرے بھائی کے یہاں جب بچہ پیدا ہو تو اس کا بھی سلسلہ گھر سے ہی جاری رہے جو ایک میں چلنے کا سلسلہ ہے وہ منقطع نہ ہو پائے۔ شریعت میں تو یہ ہےکہ جس کے اہل و عیال ہوں وہی ان کی کفالت کرے۔واللہ تعالی اعلم


