فتوی نمبر:806

عنوان: نشہ کی حالت میں طلاق کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید اور ہندہ میاں بیوی ہیں، دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور زید نے ہندہ کو مارا پیٹا، دوسرے دن ہندہ کی ماں ہندہ کے گھر پہنچ گئی اور اپنی لڑکی ہندہ کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور لڑکی بھی تیار تھی بلکہ وہ پہلے ہی گھر سے باہر نکل چکی تھی، زید نے لڑکی اور اپنی ساس دونوں سے جانے کے لیے منع کیا، اور اپنی ساس سے کہا کہ اگر یہ چلی گئی یا آپ اس کو لے کر گئیں تو میں اسے طلاق دے دوں گا۔ اس کے باوجود ہندہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے میکے کے لیے چلنے کو تیار تھی جب گھر سے باہر راستے میں تھے تو چونکہ زید اپنی ساس اور بہن کے ساتھ چل رہا تھا جب کہ لڑکی ہندہ ان تینوں سے کافی آگے چل رہی تھے۔
زید نے شراب پی رکھی تھی اور وہ کافی نشے کی حالت میں تھا کہ اس سے صحیح سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا بلکہ چلنے میں اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے ایسی حالت میں زید نے اپنی ساس سے کہا ‘بات والی ہو تو اب مت بھیجنا میں اسے طلاق دے رہا ہوں، طلاق، طلاق، طلاق، جا طلاق، جا طلاق اس طرح کے الفاظ کئی بار دہرائے، ان الفاظ کو ساس نے اور زید کی بہن نے سنا تو بہن نے ایک دو تھپڑ بھی مارے اور ہندہ جو کافی آگے چل رہی تھی اس نے بھی ان کو کہتے ہوئے سنا۔
لہذا حضرت کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اس پر شریعت کا کیا حکم لاگو ہوتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں، کرم ہوگا۔

المستفتی: فضل الرحمن، کسیر کلاں، ڈبائی، ضلع بلند شہر، یوپی

باسمه تعالی والصلاۃ والسلام علی رسوله الاعلی

الجواب: شراب ام الخبائث ہے جو کہ پیشاب کی طرح نجس ہے اس کا پینا سخت ناجائز و حرام و عظیم گناہ اور غضب الٰہی کا سبب ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’يٰٓااَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ‘‘۔ (المائدة، ٩٠)
ترجمہ: اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا ۔(کنز الایمان)
نیز شرابی پر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے لعنت فرمائی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:’’لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة اليه وساقيها و بائعها وآكل ثمنها والمشتري لها والمشتراة له‘‘۔ (ترمذي شريف، ح:١٢٩٩، ص: ٣٩٦، دار الفكر)
صورت مستفسرہ میں جب زید نے گھر سے باہر نکل کر راستہ میں نشہ کی حالت میں یہ کہا کہ ’’میں اسے طلاق دے رہا ہوں طلاق، طلاق، طلاق، جا طلاق‘‘ تو زید ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوا اور اس جملہ سے اس کی بیوی ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور وہ مغلظہ ہو کر زید کے نکاح سے نکل گئی کیوں کہ حالت نشہ میں بھی طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے تو زید پر اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے حرامہوگئی اب ان کا نکاح باقی نہیں رہا اور نہ ہی ان دونوں کا اب نکاح ہوسکتا دونوں پر واجب ہے کہ فورا الگ ہو جائیں ہاں اگر ہندہ عدت گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور اس سے ہمبستر بھی ہو جائے پھر وہ اس کو طلاق دے دے یا مر جائے تو اب عدت گزار کر زید سے نکاح کرنے کی اس کو شرعا اجازت ہے،ارشاد باری تعالی ہے:’’فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ‘‘۔ (البقرة، ٢٣٠)
شراب پی کر نشے کی حالت میں جو طلاق دی جائے وہ ہوجاتی ہے، رد المحتار میں ہے:’’وبين في التحرير حكمه انه ان كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الاحكام وتصح عباراته من الطلاق والعتاق‘‘۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، ج:٤، ص:٤٤٤، دار عالم الكتب)
فتاوی ہندیہ میں ہے:’’وطلاق السكران واقع اذا سكر من الخمر او النبيذ وهو مذهب اصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط‘‘۔ (فتاوى هندية، كتاب الطلاق، ج:١، ص:٣٨٨،٣٨٧، دار الكتب العلمية)
درمختار میں ہے:’’(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا۔ بدائع، ليدخل السكران‘‘۔ (در مختار مع رد المحتار، كتاب الطلاق، ج:٤، ص:٤٣٨، دار عالم الكتب)
اعلی حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’نشہ میں طلاق دی بلاشبہ بالاتفاق ہوگئی‘‘۔(ملخصا،فتاوی رضویہ، ج:١٢، ص:٣٨٦، رضا فاؤنڈیشن)
بہار شریعت میں ہے:’’ نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی کہ یہ عاقل کے حکم میں ہے اور نشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا بھنگ وغیرہ کسی اور چیز سے‘‘۔(بہار شریعت، ج:٢، ص:١١١، مکتبۃ المدینہ)
لہذا زید اور ہندہ کا آپس میں میاں بیوی بن کر رہنا قطعا جائز نہیں، اگر وہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کی اجازت اسی صورت میں ہے جو ہم پیچھے بیان کر چکے ورنہ اگر یوں ہی ساتھ رہیں گے تو زنائے خالص کے مرتکب ہوں گے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:’’وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة لم تحل له حتي تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها‘‘۔(فتاوى هندية، كتاب الطلاق، ج:١، ص:٥٣٥، زكريا)
اعلی حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’ایک ساتھ تین طلاقیں دینا گناہ ہے اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ بے حلالہ ہرگز اس کے نکاح میں نہیں آ سکتی، اگر یوں ہی رجوع کر لی، بلا حلالہ نکاح جدید باہم کرلیا تو دونوں مبتلائے حرام کاری ہوں گے اور عمر بھر حرام کاری کریں گے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، ج:٥، ص:٦٤٥، رضا اکیڈمی) واللہ تعالیٰ اعلم

Previous articleبد مذہبوں سے ہارنے پر ان کا مذہب قبول کرنے کی بات کرنا
Next articleThis is demo article