فتوی نمبر:794

عنوان: ایام جنابت میں خواتین کے لیے ترجمۂ قرآن لکھنے، پڑھنے کا حکم

سوال۔ عورتوں کے لیے ایام جنابت میں قرآن شریف کا ترجمہ پڑھنے اور لکھنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب: ایام جنابت میں خواتین کا قرآن پاک کو چھونا اور پڑھنا ممنوع و حرام ہے اور یہی حکم قرآن پاک کے ترجمہ کا ہے، ارشاد باری تعالی ہے :’’لا یمسه الا المطھرون‘‘۔ (سورہ واقعہ ٧٩)
ترجمہ:اسے نہ چھوئیں مگر با وضو۔(کنز الایمان)
در مختار میں ہے:’’(وقراءة القرآن) بقصده (ومسه) ولو مكتوبا بالفارسية في الاصح (إلا بغلافه)‘‘۔ (در دمختار مع رد المحتار، ج:١،ص: ٤٨٨، دار عالم الكتب)
النہر الفائق میں ہے:’’(و)يمنع أيضا حل (مسه) أى: القرآن ولو مكتوبا بالفارسية اجماعا هو الصحيح‘‘۔( النهر الفائق شرح كنز الدقائق،ج:١، ص:١٣٤، دار الكتب العلمية)
اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:’’محدث کو مصحف چھونا مطلقاً حرام ہے خواہ اُس میں صرف نظم قرآن عظیم مکتوب ہو یا اُس کے ساتھ ترجمہ وتفسیر ورسم خط وغیرہا بھی کہ ان کے لکھنے سے نامِ مصحف زائل نہ ہوگا آخر اُسے قرآن مجید ہی کہا جائے گا ترجمہ یا تفسیر یا اور کوئی نام نہ رکھا جائےگا یہ زوائد قرآن عظیم کے توابع ہیں اور مصحف شریف سے جُدا نہیں ولہٰذا حاشیہ مصحف کی بیاض سادہ کو چھُونا بھی ناجائز ہوا بلکہ پٹھوں کو بھی بلکہ چولی پر سے بھی بلکہ ترجمہ کا چھونا خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جُدا لکھا ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ قدیم،ج:١،ص:٢٢٢، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
بہار شریعت میں ہے:’’قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآن مجید ہی کا سا حکم ہے‘‘۔(بہار شریعت،جلد:١ صفحہ:٣٢٧، مکتبۃ المدينہ)
البتہ اگر کاپی وغیرہ پر قرآن پاک کے ترجمہ کو اس طور پر لکھا جائے کہ اس صفحہ پر ہاتھ نہ لگے تو اس کا لکھنا جائز ہے،فتاویٰ ہندیہ میں ہے:’’ولو كان القرآن مكتوبا بالفارسية يكره لهم مسه عند ابي حنيفة، ويكره للجنب والحائض ان يكتبا الكتاب الذي في بعض سطوره آية من القرآن وإن كانا لا يقرآن القرآن‘‘۔(فتاوى ہنديہ،ج:١، ص:٤٣، دار الكتب العلمية)
حاشیۂ طحطاوی میں ہے :’’واما كتابة القرآن فلا بأس بها اذا كانت الصحيفة علي الارض عند ابي يوسف لانه ليس بحامل للصحيفة، وكره ذلك محمد وبه أخذ مشائخ بخارى. قال الكمال: وقول ابي يوسف أقيس لان الصحيفة اذا كانت على الارض كان مسها بالقلم وهو واسطة منفصلة فصار كثوب منفصل إلا ان يكون يمسه بيده‘‘۔(حاشية الطحطاوى على مراقي الفلاح، كتاب الطهارة، ص: ١٤٤ دار الكتب العلمية)
لہذا خواتین کے لیے حالت جنابت(ایام حیض و نفاس) میں قرآن شریف کا ترجمہ چھونا اور پڑھنا ممنوع و حرام ہے، اور اگر اس کے ترجمہ کو کسی صفحہ پر اس طرح لکھا جائے کہ اس کو ہاتھ نہ لگائے تو اس کا لکھنا جائز ہے کہ درمیان میں قلم واسطۂ منفصلہ حائل ہے۔ والله تعالی اعلم

Previous articleموقوفہ مدرسے کی زمین بیچ کر اس کی رقم دوسری جگہ لگانا
Next articleگھر کا خرچ ساجھے داری سے ہو تو بچے کے دودھ کے پیسے گھر سے دیناکیسا