
فتوی نمبر:796
عنوان: دھوکہ دے کر منریگا اسکیم کے پیسے حاصل کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے گاؤں کے پاس ایک سرکاری جنگل ہے اور اس کا ایک فارسٹ گاڑد(forest guard ہندو ہے ) ہے اس نے ہمارے گاؤں کے سو ڈیڑھ سو مردوعورت کے نام ان کے ادھار کاڑد اور پاسبک لےکر منریگا میں ہمارے گاؤں کے زید اور بکر کے ذریعہ سے اس شرط پر کروادیا ہے کہ تم لوگوں کو جنگل میں کام کرنے نہیں جانا ہے اور جب تمھارے اکاونٹ میں روپیہ آئےگا تو پانچ سو کے علاوہ سارا روپیہ فارسٹ گاڑد کو دے دیناہے ۔
اب ان لوگوں کے اکاونٹ میں ہرمہینہ 10000 /20000 ہزار روپیے آتا ہے تو فارسٹ گاڑد کے معاون یعنی زید اور بکر ان روپیوں کو کھاتے داروں سے حسب شرط پانچ پانچ سو دے کر بقیہ سارا روپیہ وصول کر حساب وکتاب کرکے فارسٹ گاڑد کو دے دیتے ہیں اور اسی میں سے تھوڑی رقم زید بکر کوبھی مل جاتی ہے
توکیا اس پیسہ کو کھاتے داروں اور زید بکر کو لینا جائز ہے یا نہیں خالد جوکی گاؤں کا امام ہے اور وہ غیر عالم ہے اس نے جمعہ کی تقریر میں کہا کی اس روپیہ کا لینا حرام و ناجائز ہے کیونکہ اس میں حکومت کے ساتھ دھوکا ہے اور آنے والے وقت میں پریشانی بھی آسکتی ہے لہذا آپ حضرات اس سے پرہیز کریں تو کیاخالد کی بات درست ہے یا نہیں اگر نہیں تو خالد پر کیا حکم ہے تفصیل کے ساتھ حکم شرع بیان فرمائیں نوازش ہوگی؟
المستفتی : محمد حسنین رضا مقام گڑرا پوسٹ بنٹھوا ضلع شراوستی یوپی
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب: دھوکہ دے کر اور اپنی عزت کو اس طرح خطرہ میں ڈال کر پیسہ حاصل کرنا یقیناً غیر شرعی ہے،امام صاحب کا یہ کہنا بالکل درست ہے لیکن غیر عالم کو تقریر کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی غیر عالم کو حکم بیان کرنے میں جری ہونا چاہیئے، ہاں اگر وہ جامع شرائط امام ہے تو کسی معتبر کتاب کو دیکھ کر وعظ و نصیحت کر سکتا ہے۔
صورت مسئولہ میں لوگوں کا حکومت کے ساتھ اس طرح دھوکہ اور غدر و فریب کرنے کی شرعاً اجازت نہیں اور اس طور پر پیسوں کا حاصل کرنا یہ بھی ناجائز و ممنوع ہے۔دلالی کرنے والے زید و بکر بھی شرعاً مجرم ہیں،ان کا بھی اس طور پر رقم حاصل کرنا جائز نہیں،مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خلاف شرع حرکتوں سے باز آئیں۔
المعجم الکبیر میں ہے:’’مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِی النَّارِ‘‘۔ (المعجم الکبیر،ج:١٠:ص:١٣٨،حديث:١٠٢٣٤،القاهرة)
مسلم شریف میں ہے:’’إذا جمع الله الأولين و الآخرين يوم القيامة يرفع لكل غادر لواء،فقيل:هذه غدرة فلان بن فلان‘‘۔ (مسلم شريف،باب تحريم الغدر،ص:١٧٣٥،حديث:١٧٣٥،بيت الأفكار الدولية)
ترمذی شریف میں ہے:’’من غش فلیس منا‘‘۔ (جامع الترمذي، باب ما جاء فی کراھیة الغش في البيوع،ص:٣١١،حديث: ١٣١٥،مكتبة المعارف الرياض)
مبسوط سرخسی میں ہے:’’الغدر حرام‘‘۔(المبسوط للسرخسي،ص:٩٦،ج:١٠، دار المعرفة بيروت)
علامہ ابن عابدین شامی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’ان الغدر حرام‘‘۔(رد المحتار مع در المختار، کتاب الجھاد،باب المستامن،ج:٦،ص:٢٨٠،دارةعالم الكتب الرياض)
علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’إن أموالكم حرام إذا لم يوجد التراضي‘‘۔ (عمدۃ القاری،ج:٢٤،ص:١٧٣، دار الکتب العلمیہ بیروت)
علامہ ابن ہمام حنفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’إنما يحرم على المسلم إذا كان بطريق الغدر‘‘۔(فتح القدیر،کتاب البیوع،ج:٧،ص:٣٨،دار الكتب العلمية بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’غدر و بدعہدی مطلقا سب سے حرام، ہے، مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یامرتد‘‘۔( فتاویٰ رضویہ، مترجم،ج:١٤،ص١٤٠،رضا فاؤنڈیشن)
بحر العلوم علامہ عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ مدرسے کا فرضی ریکارڈ دکھا کر پیسے یا تنخواہیں حاصل کرنا کیسا ہے تو آپ نے فرمایا:’’فرضی حق بنا کر جو لیا اس میں غدر و فتنہ اور چٹنگ بازی کیا یہ ضرور ناجائز و حرام ہے‘‘۔ (فتاویٰ بحر العلوم،ج:۵،ص:٢٧٤، امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف) والله تعالى أعلم


