
عنوان:سنی میت کی نماز جنازہ دیوبندی پڑھاے تو کیا حکم ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی سنی کی نمازِ جنازہ کوئی وہابی یا دیوبندی مولوی پڑھائے تو کیا حکم ہے، اور اس کی اقتدا میں کوئی سنی شخص پڑھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
سائل: محمدرضوان برکاتی،سیتا مڑھی،بہار
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:دیوبندی وہابی اورجو ان کے ہم عقیدہ ہیں اپنے عقائد باطلہ کفریہ کے سبب کافر و مرتد ہیں۔ جو شخص ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہونے کے بعد بھی انہیں مسلمان جانے وہ خود بھی انہیں کی طرح کافر و مرتد ہے۔ان کے متعلق علماے حرمین شریفین، مصر و شام، ہندو پاک وغیرہ نے بیک زبان فرمایا:
’’من شك في كفره وعذابه فقد كفر‘‘۔یعنی جو شخص (ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہونے کے بعد بھی)ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے۔
دیوبندی وہابی غرض کہ کسی بھی بدعقیدہ،بد مذہب کو امام بنانا اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں جیسا کہ شرح فتح القدیر،تبیین الحقائق،فتاوی تاتارخانیہ اور البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:’’إن الصلاة خلف الأهواء لا تجوز‘‘-اھ-(البنایہ شرح الہدایہ،ج٢،ص٣٩٣،دار الفکر بیروت)
در مختار میں ہے:’’إن أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر فلا يصح الإقتداء به أصلاً‘‘-اھ-(در مختار،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج٢،ص٣٠٠، دار الكتب العلميہ بيروت)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:’’لا تجوز الصلاة خلف المبتدع‘‘-اھ-(فتاویٰ تاتارخانیہ،ج١،ص ٣٧٦،دار الکتب العلمیہ بیروت)
جو نماز بھی ان کی اقتدا میں پڑھی جائے گی خواہ نماز جنازہ ہو یا نماز پنج گانہ باطل محض ہوگی،فرض سر پر رہے گا،ان کی نماز پر اکتفا کیا گیا تو مسلمان بغیر نماز جنازہ کے دفن ہوگا۔
فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’وہ نماز کہ اس نے پڑھائی باطل محض ہوئی،مسلمان بغیر نماز جنازہ کے دفن کیا گیا‘‘۔(فتاویٰ رضویہ قدیم،ج٤،ص١٢، رضا اکیڈمی ممبئی)
کیوں کہ یہ سب اسلام سے خارج ہونے کی وجہ سے کافر و مرتد ہیں اور کافر و مرتد کی کوئی نماز نہیں بلکہ نماز تو مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’إنّ الصلاةَ كانت علىَ المُؤمنينَ كتاباً موقوتاً‘‘۔(سورہ نساء، آیت ۱۰۳)
لہذا جو لوگ امام کی حالت سے واقف تھے کہ وہ وہابی کفریہ عقائد رکھتا ہے پھر بھی انہوں نے اس امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو ان کی نماز باطل محض ہوئی، نماز جنازہ کے تارک،سخت گنہگار و مستحق عذاب ہوئے جب کہ اس وہابی امام کو مسلمان یا صالح امامت نہ جانا ہو ورنہ اگر حق جان کر اور مسلمان مان کر نماز جنازہ پڑھی تو سب پر توبہ و استغفاروتجديد ایمان اور اگر بیوی رکھتے ہوں تو تجدید نکاح بھی لازم ہے جیسا کہ اعلی حضرت شاہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’جو جو اس امام کی حالت سے آگاہ تھے سب ترک فرض نماز جنازہ کے مرتکب و مستحق عذاب رہے۔ جب کہ خود وہابی یا وہابیہ کو صالح امامت جاننے والے نہ ہوں ورنہ بالاتفاق علمائے حرمین شریفین کا فتوی ہو چکا ہے کہ ’’من شك فی کفرہ و عذابه فقد کفر‘‘ جو وہابی کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے۔ ( فتاوی رضویہ، قدیم جلد: ٤، صفحہ ۱۲، رضا اکیڈمی ممبئی)
اسی میں ہے:’’دیوبندی عقیدہ والوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے، ہوگی ہی نہیں فرض سر پر رہےگا اور ان کے پیچھے پڑھنے کا شدید عظیم گناہ ،اس میں سب برابر ہیں،نماز پنج گانہ ہو خواہ جمعہ یا عید یا جنازہ یا تراویح،کوئی نماز ان کے پیچھے ہو سکتی ہی نہیں بلکہ اگر (ان کو قابل امامت یا مسلمان)جاننا بھی در کنار ان کے کفر میں شک ہی کرے تو خود کافر ہے جب کہ ان کےخبیث اقوال پر مطلع ہو‘‘۔ملخصاً(فتاویٰ رضویہ قدیم،ج٣ص٢٣٥،رضا اکیڈمی ممبئی)
صورت مسئولہ میں جن لوگوں نے وہابی امام کے عقائد کفریہ پر مطلع ہونے کے بعد بھی اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی سب گنہگار و مستحق عذاب ہوئے،نماز جنازہ کا فرض سر پر رہا اور اگر وہابی امام کو مسلمان جان کر نماز جنازہ پڑھی تو سب توبہ واستغفار و تجدید ایمان کریں،اگر بیوی رکھتے ہوں تو تجدید نکاح بھی کریں، نماز جنازہ دوبارہ ادا کریں اگرمیت کو دفنا دیا گیا ہو تو جسم پھولنے پھٹنےسے پہلے اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھیں۔ والله تعالی أعلم


