
عنوان:موبائل فون میں قرآن شریف رکھنے اور اس کو دیکھ کر تلاوت کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ موبائل فون پر قرآن شریف رکھنا اور موبائل میں ہی پڑھنا کیسا ہے زید کہتا ہے کہ اس موبائل میں دیگر چیزیں بھی ہوتی ہے لہذا یہ قرآن کی بے ادبی ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی:محمد شہباز خان،آزاد نگر، دھنباد، جھارکھنڈ
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:موبائل فون میں مختلف قسم کی فائلیں، قرآن و حدیث کے علاوہ دیگر اسلامی کتابیں، لائبریریاں، علمائے اہل سنت کی تقاریر و وعظ کی آوازیں، سنی نعت خوانوں کے ذریعہ پڑھی گئی حمدو نعت و منقبت وغیرہ کومحفوظ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ایسا کرتے بھی ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں موبائل اور کمپیوٹر کی مدد سے کتابوں سے افادہ و استفادہ کافی آسان ہوگیا ہے، یہ موبائل فون وغیرہ کا ایک پہلو ہے جو موبائل فون کو صرف اچھے کاموں میں استعمال کرے اس کے لیے اس کے جائز ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں۔
موبائل فون کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ اس کے ذریعہ صرف گانے بجانے، لہو و لعب بلکہ عریاں و جنس پرستی کی فلمیں ہی دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا استعمال نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لیے اس قسم کے موبائل کا استعمال ہی ممنوع اور ناجائز ہے جو کہ مفضی الی المحرمات ہوں۔
موبائل فون کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس کا استعمال اچھے کاموں کے لیے بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی برے کاموں میں بھی استعمال کر لیتے ہیں تو موبائل اور اس جیسے دیگر آلات کا جائز کاموں کے لیے استعمال جائز اور ناجائز کاموں کے لیے استعمال ناجائز ہے جیسا کہ شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کے تحت منعقدہ آٹھویں فقہی سیمینار میں میموری کارڈاور سی ڈی وغیرہ کے متعلق فیصلہ یوں درج کیا گیا:’’مذکورہ بالاچیزوں کو جائز کاموں کے لیے استعمال کرنا جائز، اور ناجائز کاموں کے لیے استعمال کرنا ناجائزہے‘‘۔(فیصلہ جات شرعی کونسل، ص:۱۹۹، مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا، بریلی شریف)
صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ موبائل یا میموری کارڈ میں فلمی گانے، لعب و لہو کی چیزیں ، فلمیں و دیگر غیر شرعی چیزیں رکھنا ناجائز و حرام ہے اگرچہ اس موبائل یا میموری کارڈمیں قرآن شریف ہو یا نہ ہوجیسا کہ فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے:’’میموری کارڈ یا سی ڈی جس میں قرآن کریم کی تلاوت محفوظ ہو یا نہ ہواس میں میوزک یا کوئی ناجائز و حرام گانا اگرچہ میوزک کے ساتھ حمد و نعت ہی کیوں نہ ہو اسے جمع کرنے کا عمل ناجائز و حرام ہے‘‘۔(ایضاً)
اسی طرح جس موبائل یا میموری کارڈ میں مذکورہ ناجائز و حرام یا اس کے علاوہ یگر غیر شرعی چیزیں ہوں تو اس میں قرآن کریم کو رکھنا ممنوع ہے کیونکہ فقہائے اسلام نے قرآن کریم کے آداب بجالانے میں حد درجہ احتیاط کا حکم دیا ہے، صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’قرآن مجید جس صندوق میں ہو اس پر کپڑا وغیرہ نہ رکھا جائے، اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے، نہ پاؤں پھیلائے جائیں، نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہو اور قرآن مجید نیچے ہو‘‘۔(ملخصاً،بہار شریعت، ح:۱۶، ج:۳، ص:۱۲۶، ۱۲۷،فریدبک ڈپو، دہلی)
لہذا جس موبائل یا میموری کارڈ میں غیر شرعی اشیا جمع نہ کی گئی ہوں اس میں قرآن کریم رکھنا اور اس کو دیکھ کر تلاوت کرنا جائز ہے جب کہ کوئی دوسرا مانعِ شرعی نہ پایا جاتا ہو۔
آج کے اس ڈجیٹل اور ٹیکنالوجی دور میں مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ حدودِ شرع میں رہ کر سائنس و ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں لیکن کہیں پر بھی اپنے ایمان و اسلام اور شریعت پر آنچ نہ آنے دیں، جو لوگ موبائل میں قرآن کریم رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ اسلامیات کے لیے کوئی موبائل خاص کرلیں جس میں اسلامی اور جائز چیزوں کے سوا کچھ نہ ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو کوئی میموری کارڈ یا یوایس بی وغیرہ خاص کرلیں تاکہ قرآن کریم کے آداب بجالانے میں کسی قسم کی کوتاہی کا الزام نہ آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم


