عنوان:موت پر تاوان لینے کی شرعا اجازت نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید اور بکر دونوں باہمی اشتراک سے تجارت کرتے ہیں، اس سلسلے میں دونوں سفر میں تھے تو بکر مال کی تلاش میں تھوڑا دور چلا گیا اور زید باقی ماندہ مال لے کر گاڑی سے گھر کی طرف چلا آیا۔اسی اثنا میں بکر موت کا شکار ہو گیا۔زید نے گھر آ کر بکر کے ورثا کو اطلاع دی کہ بکر کہیں گیا تھا اس کے بعد اس کا کوئی اتا پتا نہیں۔ بعدہ تلاش کرنے پر بکر کی لاش ملی جو کہ ایک پہاڑ کے دامن میں تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بکر پہاڑ سے سڑک کے نیچے گرا ہے جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی ۔اب بکر کے ورثا کا یہ مطالبہ ہے کہ چوں کہ بکر کی موت زید کی لاپروائی کی وجہ سے ہوئی ہے لہذا زید پر تاوان پڑتا ہے،آیا دریں صورت زید پر لاپرواہی کی وجہ سے کوئی تاوان وغیرہ ،مالی جرمانہ ڈالا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا

المستفتی: چودھری گلزار احمد صاحب،سابق ایس۔ایس۔پی،جموں

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب:قرآن و تفسیر اور حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے ہر انسان کی موت کا ایک وقت مقرر فرما دیا ہے، نہ تو اس وقت سے پہلے کسی کو موت آتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو مہلت دی جاتی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا فرما دیتا ہے جو موت کا سبب بن جاتے ہیںارشاد باری تعالیٰ ہے:’’وَلَن یُؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا إِذَاجآءَ أَجَلُهَا وَاللّٰهُ خَبِیرُۢ بِمَا تَعْمَلُونَ‘‘۔(المنافقون:١١)
دوسری میں ارشاد فرمایا:’’إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاۤءَ لَا یُؤَخَّرُ لَوۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ‘‘۔(نوح:٤)
اور سورہ اعراف میں ہے:’’وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَل فَإِذَا جَاۤءَ أَجَلُهُمۡ لَا یَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةً وَّلَا یَسۡتَقۡدِمُونَ‘‘۔(الأعراف:٣٤)
علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:’’وإذا جاء ذلك الأجل مات لا محالة ‘‘۔(تفسیرالرازی،ج:١٤،ص:٧١،مکتبۃ: دار الفکر بیروت)
اسی میں ہے:’’لزم أن یکون لکل أحد أجل لا يقع فيه التقديم و التأخير، فيكون المقتول ميتاً بأجله‘‘۔ (ایضاً:ص:٧٢)
اسی میں دوسری جگہ ہے:’’المراد أنه لا يتأخر عن ذلك الأجل المعين لا بساعة ولا بما هو أقل من ساعة إلا أنه تعالى ذكر الساعة‘‘۔(ایضاً،ص:٧٢)
حدیث پاک میں ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن بعد ’’مضغہ‘‘ کی شکل اختیار لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چار چیزیں لکھنے کا حکم دیتا ہے:’’ویقال له: أکتب عمله، ورزقه، وأجله، وشقي أو سعید‘‘۔(صحيح البخاري،باب بدء الخلق،ص:٧٩٥،دار إبن كثير،بيروت)
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ موت کی وجہ کو زید کی لا پرواہی اور غلطی قرار دینا شرعی اعتبار سے درست نہیں، کیوں کہ زید کے واپس آنے میں ظاہری اعتبار سے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جا رہی ہے جو بکر کی ہلاکت میں ممد و معاون ہو اور اس کی وجہ سے زید کو مجرم قرار دیا جائے، بلکہ یہ تو مشیت الہی تھی۔
لہذا زید کو محض اپنے خیال سے ایسے فعل کا مجرم قرار دینا اور اس کے عوض مالی جرمانہ عائد کرنا ناجائز و حرام ہے اور ایک طرح کی زیادتی ہے جیسا کہ البحر الرائق اور رد المحتار میں ہے:’’لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي‘‘۔( رد المحتار مع در المختار،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج:٦،ص:١٠٦، دار عالم الكتب الرياض)
اصح مذہب کے مطابق کسی مجرم پر بھی مالی جرمانہ یا تاوان ڈالنے کی شرعاً اجازت نہیں کیوں کہ اس کا حکم خود از روئے شرع منسوخ ہو چکا ہے لہذا جب کسی مجرم شخص پر مالی جرمانہ عائد کرنے کی اجازت نہیں تو جو شخص شرعاً مجرم نہ ہو تو بدرجہ اولیٰ اس کی اجازت نہیں ہوگی جیسا کہ البحر الرائق میں ہے:’’وفى شرح الآثار: التعزير بالمال كان فى ابتداء الإسلام ثم نسخ اه‍ و الحاصل ان المذهب عدم التعزير باخذ المال‘‘۔(البحر الرائق،كتاب الحدود، باب التعزيز،ج:٥،ص٦٨،دار الكتب العلمية بيروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ،مترجم،ج:٢١،ص:٢٧٣، رضا فاؤنڈیشن)
اسی میں ہے:’’وہ روپیہ کہ اس شخص سے زجرا لیا گیا حرام ہے کہ تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام‘‘۔ (فتاوی رضویہ، مترجم، ج:٢٣، ص:٣٣١، رضا فاؤنڈیشن)
حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’تعزیر بالمال یعنی جرمانہ لینا جائز نہیں‘‘۔(بہار شریعت،تعزیر کا بیان،ج:٢،ص:٤٠٥، مکتبۃ المدینہ)
لہذا بکر کے ورثا کا زید پر لاپرواہی کا الزام لگا کر تاوان یا مالی جرمانہ عائد کرنا جائز نہیں، بلکہ بکر کے ورثا پر لازم ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیں اور ایسے غیر شرعی امور سے باز آئیں کہ اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

Previous articleکیا حضور ﷺ حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالی عنہا کی گود میں سر رکھ کر آرام فرماتے
Next articleموبائل فون میں قرآن شریف رکھنے اور اس کو دیکھ کر تلاوت کرنے کا حکم