فتوی نمبر:793

عنوان: موقوفہ مدرسے کی زمین بیچ کر اس کی رقم دوسری جگہ لگانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے پردادا نے مدرسے کو زمین وقف کی تھی،اس میں ابھی بھی مدرسہ ہے اور پڑھائی بھی ہوتی ہے لیکن ہم نے اسی مدرسے کے نام سے دوسری جگہ خریدی ہے جو اس سے زیادہ وسیع ہے لیکن ہمارا ارادہ یہ ہے کہ جو پہلا مدرسہ ہے اسے بیچ کر جو جگہ مدرسے کے لیے ہم نے خریدی ہے اس کی تعمیر میں پیسہ لگا دیا جائے تاکہ جلد کام ہو، مدرسہ بڑا ہو جائے اور تعلیم شروع ہو جائے تو دریافت طلب امر یہ ہے
(1)
کیا ہمارا موقوفہ مدرسے کی زمین کو بیچنا جائز ہے
(2)
کیا اس کے پیسے ہم اپنے مدرسے میں لگا سکتے ہیں
(3)
موقوفہ زمین کو نہیں بیچیں گے تو وہ خالی پڑا رہے گا اس میں پڑھائی نہیں ہوگی اور بستی والے بھی مشکل چلائیں گے
(4)
کیا مدرسے کی زمین بیچنے کے لیے بستی والوں کی اجازت لینا پڑے گی جب کہ وہ ہمارے پردادا نے مدرسے کو وقف کی تھی۔ 

سائل محمد شمیم، پرسو پورہ، رام پور

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب: شرع میں وقف کا معنی یہ ہے کہ کسی چیز کو اپنی ملک سے نکال کر الله تعالی کی ملک میں کر دینا تاکہ اس سے مخلوق خدا کو فائدہ حاصل ہوتا رہے، علامہ علی بن محمد سید شریف جرجانی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’الوقف في اللغة ’’الحبس‘‘ وفي الشرع: حبس العين على ملك الواقف والتصدق بالمنفعة عند ابي حنيفة، فيجوز رجوعه وعندهما حبس العين عن التمليك مع التصدق بمنفعتها، فتكون العين زائلة الي ملك اللّه تعالي من وجه(معجم التعريفات للجرجاني، ص:٢١٢، دار الفضيلة)
اگر کسی نے اپنی زندگی میں کوئی زمین بنام مدرسہ وقف کر دی تھی تو وہ وقف تام اور صحیح و لازم ہو گیا اب اس کی خرید فرخت کرنا ہر گز جائز نہیں،در مختار میں ہے:’’فاذا تم و لزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن‘‘۔(در مختار مع رد المحتار، کتاب الوقف، ج:٦، ص:٥٣٩، دار عالم الكتب)
لا يملك کے تحت رد المحتار میں ہے:’’أی لا یکون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع و نحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار‘‘۔(ایضاً)
ہدایہ اور فتاوی ہندیہ میں ہے:’’وعندهما حبس العين علي حكم ملك الله تعالي على وجه تعود منفعته الي العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث‘‘۔(فتاوی ہندیہ، کتاب الوقف، ج:٢، ص:٣٥٧، دار الکتب العلمیہ)
بہار شریعت میں ہے:’’وقف کو نہ باطل کر سکتا ہے نہ اس میں میراث جاری ہوگی نہ اس کی بیع ہو سکتی ہے نہ ہبہ ہو سکتا ہے‘‘۔(بہار شریعت، ج:٢، ص:٥٢٣، مکتبۃ المدینہ)
اسی میں ہے:’’ وقف کا حکم یہ ہے کہ نہ خود وقف کرنے والا اس کا مالک ہے نہ دوسرے کو اس کا مالک بنا سکتا ہے نہ اس کو بیع کر سکتا ہے نہ عاریت پر دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے‘‘۔ ( مرجع سابق ص: ٥٣٣)
اور وقف شدہ زمین سے جب تک فائدہ حاصل کرنا ممکن ہو تو اس کا کسی دوسری زمین سے استبدال بھی جائز نہیں جیسا کہ رد المحتار میں ہے:’’وهذا لايجوز استبداله علي الاصح المختار‘‘۔(رد المحتار،کتاب الوقف، ج:٦، ص:٥٨٤، دار عالم الکتب)
(١-٢)
لہذا موقوفہ مدرسہ کو بیچنا جائز نہیں، کیوں کہ وقف کی بیع ناجائز ہے اور اس وقف شدہ مدرسہ کی رقم کو دوسرے مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرنا بھی جائز نہیں اگر چہ دوسرا مدرسہ اسی نام سے کیوں نہ ہو۔ والله تعالی اعلم
(٣)
اس مدرسہ کی تعمیر و دیگر اخراجات کا دوسرے طریقہ سے انتظام کیا جائے محض اس خیال پر کہ اگر موقوفہ مدرسہ کی زمین نہیں بیچیں گے تو وہ خالی پڑا رہے گا یا بستی والے مشکل سے چلا پائیں گے، وقف شدہ زمین کی بیع کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ والله تعالی اعلم
(٤)
جب آپ کے پردادا نے اس جگہ کو وقف کر دیا اور وہاں مدرسہ بھی تعمیر ہو گیا تو اب وہ زمین ان کی ملکیت سے خارج ہو کر خالص الله تعالی کی ملکیت میں داخل ہو گئی، تو اب اس میں کسی وارث یا اہل بستی کو ایسے تصرف کی اجازت نہیں جو واقف کی منشا کے خلاف ہو، لہذا آپ یا اہل بستی میں سے کسی کو بھی اس کو بیچنے کا حق حاصل نہیں۔ والله تعالی اعلم

Previous articleنابینا شخص کی امامت کا حکم
Next articleایام جنابت میں خواتین کے لیے ترجمۂ قرآن لکھنے، پڑھنے کا حکم