عنوان:نابینا شخص کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں و مفتیان شرع متین مسئلۂ ہذا میں کہ ایک حافظ صاحب ہیں لیکن اُن کی قوتِ بصارت معدوم ہے،تو دریافت طلب امر یہ کہ کیا نابینا کی امامت درست ہےتمام صورتوں میں یا نہیں ؟ جواب کو حوالہ جات سے مزین فرماکر ممنون مشکور ہوں اور عند اللہ ماجور ہوں۔

المستفتی: محمد مستقیم رضا،، بہادر گنج تحصیل سوار، ضلع رامپور

باسمہ تعالی والصلاۃ والسلام علی رسولہ الاعلی

الجواب:نابینا کی امامت میں خفیف کراہت ہےجیسا کہ در مختار جلد دوم ص:۲۵۵؍پر ہے:’’و یکرہ تنزیہا إمامۃ الأعمی إلا أن یکون أعلم القوم‘‘۔اھ۔
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’(نابینا کے پیچھے نماز) بلاشہ جائز ہے مگر اولیٰ نہیں مکروہ تنزیہی ہےجب کہ حاضرین میں کوئی شخص صحیح العقیدہ و غیر فاسق، قرآن مجید صحیح پڑھنے والا، اس سے زائد یا اس کے برابر مسائل و نماز طہارت کا علم رکھتا ہوورنہ وہ عدیم البصر ہی اولی افضل ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، قدیم، ج:۳،ص:۱۶۱)
لہذا اگر نابینا حافظ صاحب مسائل نماز و طہارت ان سب سے زیادہ جانتے ہیں، حروف صحیح ادا کرتے ہیں تو انہیں کی امامت افضل ہے، جیسا کہ فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم ص:۱۴۸؍پر ہے:’’ہر جماعت میں سب سے زیادہ مستحق امامت وہی ہے جو ان سب سے زیادہ مسائل نماز و طہارت جانتا ہے حروف اتنے صحیح ادا کرے کہ نماز میں فساد نہ آنے پائے اور فاسق و بدمذہب نہ ہو اس کی امامت افضل ہے اگرچہ اندھا ہو‘‘۔اھ، ملخصا۔ واللہ تعالی اعلم

 

Previous articleدیوبندیوں اور اہل حدیث کا حکم
Next articleموقوفہ مدرسے کی زمین بیچ کر اس کی رقم دوسری جگہ لگانا