
عنوان:جمعہ اور پسینہ کی بدبو کی وجہ سے احترام مسجد کے لیے معتکف کے غسل کا حکم
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ معتکف جمعہ کے دن غسل کرسکتاہے یانہیں؟اورکیاشدیدگرمی میں اگریہ حالت ہوجائےکہ جسم سے پسینہ کی بدبوآتی ہوتواحترامِ مسجداورصفائی کے پیشِ نظرغسل کیاجاسکتاہے یانہیں؟
سائل:محمد میثم عباس قاری رضوی،لاہور، پاکستان
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:مسجد میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اعتکاف کی نیت کے ساتھ ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں جیسا کہ بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:’’الاعتکاف ہو اللبث فی المسجد مع النیۃ‘‘۔(البنایۃ شرح الہدایۃ، باب الاعتکاف، ج:۴، ص:۱۲۱،دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
ترجمہ:اعتکاف مسجد میں نیت کے ساتھ ٹھہرنے کو کہتے ہیں۔
صدر الشریعہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اعتکاف کی تعریف یوں تحریر فرماتے ہیں:’’مسجد میں اللہ کے لیے(اعتکاف کی)نیت کے ساتھ ٹھہرنا‘‘۔(بہارشریعت، ح:۵، ج:۱، ص:۴۹۰، فریدبک ڈپو، دہلی)
بدائع الصنائع میں ہے:’’أن مکان الاعتکاف ہو المسجدو یستوی فیہ الاعتکاف الواجب والتطوع لأن النص مطلق‘‘۔(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج:۲، ص:۱۱۳،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ترجمہ:اعتکاف کی جگہ مسجد ہے، اعتکاف چاہے واجب ہو یا نفل(سنت مؤکدہ کفایہ بھی اسی میں شامل ہے)کیونکہ نص مطلق ہے۔
مسجد میں رہنا یہ اعتکاف کا رکن ہے اگر معتکف بلاعذر شرعی عمداً یا سہواًمسجد سے نکلے گا تو رکنِ اعتکاف کے فوت ہونے کی وجہ سے اعتکاف فاسد ہوجائے گاجیساکہ مبسوط سرخسی میں ہے:’’لأن رکن الاعتکاف ہوالمقام والخروج ضدہ فیکون مفسداً لہ إلابقدر ما تحققت الضرورۃ فیہ‘‘۔(المبسوط للسرخسی،باب الاعتکاف، ج:۳، ص:۱۱۷،دار المعرفۃ، بیروت)
ترجمہ:اس لیے کہ اعتکاف کا رکن (مسجدمیں)ٹھہرنا ہے اور(مسجد سے) نکلنا اس کی ضد ہے تو اگر ضرورت کے علاوہ نکلے گا اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
اسی میں ہے:’’أن القلیل من الخروج یفسد الاعتکاف عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی‘‘۔(المبسوط للسرخسی،باب الاعتکاف، ج:۳، ص:۱۲۴،دار المعرفۃ، بیروت)
ترجمہ:تھوڑی دیر کے لیے نکلنے سے بھی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اعتکاف کو فاسد کردے گا۔
معتکف کو مسجد سے صرف عذر کی وجہ سے نکلنے کی اجازت ہےاور اس کی تین صورتیں ہیں:(۱)حاجت شرعیہ (۲) طبعیہ (۳)ضروریہ
نور الایضاح میں ہے:’’ولایخرج منہ الا لحاجۃ شرعیۃ کالجمعۃ و العیدین، أو طبعیۃ کالبول و الغائط وازالۃ النجاسۃ، أو ضروریۃ کانہدام المسجد و اخراج ظالم کرہا‘‘۔(نورالایضاح، باب الاعتکاف، ص:۱۴۶،المکتبۃ العصریۃ)
ترجمہ:اور معتکف مسجد سے حاجت شرعیہ جیسے جمعہ و عیدین، یا حاجت طبعیہ جیسے بول و براز اور ازالۂ نجاست، یا حاجت ضروریہ جیسے انہدام مسجد اور ظالم کے زبردستی نکالنے کی وجہ سے ہی نکل سکتا ہے۔
لیکن جس پر غسل فرض ہو (محتلم) اس کو مسجد سے باہر غسل کے لیے اسی صورت میں نکلنے کی اجازت ہے جب کہ مسجد میں قیوداتِ شرعیہ کے ساتھ غسل کرنا ممکن نہ ہو جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:’’الخروج إلا لحاجۃ الانسان طبیعۃ کبول و غائط وغسل لو احتلم ولا یمکنہ الإغتسال فی المسجد‘‘۔(الدر المختار مع حاشیتہ رد المحتار، ج:۲، ص:۴۴۵، دارالفکر، بیروت)
ترجمہ:معتکف کو نکلنے کی اجازت صرف ضرورت کی وجہ سے ہوگی ضرورت چاہے طبعی ہو جیسے بول وبراز کے لیے اور غسل کے لیے اگر مسجد میں غسل ممکن نہ ہو۔
لہذا معتکف اگر محتلم ہے اور مسجد کے اندر بڑا ٹب، لحاف یا گدا باٹر پروف رکھ کر مسجد میں پانی کی بوند یا چھینٹا گرائے بغیر غسل کر سکتا ہے تو وہیں غسل کرے ورنہ اس کو غسل کے لیے بقدر ضرورت مسجد سے نکلنے کی اجازت ہے لیکن اگر معتکف پر غسل لازم نہیں ہے محض جمعہ کے لیے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا چاہتا ہے تو اس کو مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی فقہ کا مشہور قاعدہ ہے ’’ما أبیح للضرورۃ تتقدر بقدرہا‘‘ جس کی اجازت ضرورت کی وجہ سے ہو تو وہ ضرورت کی مقدار ہی مباح ہوگی، لہذا اگر ایسا شخص مسجد کے باہر نکلے گا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا، پسینہ سے عموماً مسجد کی فضا مکدر نہیں ہوتی ہے لہذا اس کو مسجد سے نکلنے کی ضرورت میں نہیں شمار کیا جا سکتا۔
مذکورہ تفصیلات اس صورت میں ہیں جب کہ غسل خانہ مسجد سے الگ حدودِ مسجد سے باہر ہو اور اگر غسل خانہ مسجد کے اندر ہو جیساکہ آج کے زمانہ میں رائج ہے توجمعہ اور پسینہ کی بدبو دور کرنے کےلیے غسل کرنے سے بھی اعتکاف فاسد نہیں ہوگا کیونکہ اعتکاف کا فساد حدودِ مسجد سے بلاعذرِ شرعی باہر ہونے سے ہوتا ہے حدودِ مسجد میں رہنے سے نہیںجیسا کہ ردالمحتار میں ہے:’’لوصعدای المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف‘‘۔(رد المحتار مع الدر المختار، باب الاعتکاف، ج:۲، ص:۴۴۶، دارالفکر، بیروت)
ترجمہ: اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد، حدودمسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تک کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، ج:۳، ص:۴۷۴، رضااکیڈمی، ممبئی، ۱۴۱۵ھ/۱۹۹۴ء)
اسی کے بعد اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے استدلال میں امام طحاوی اور رد المحتار کی درج ذیل عبارتوں کو پیش فرمایا ہے:’’وھذا ماقال الامام الطحاوی ان حجرۃ ام المؤمنین من المسجد‘‘۔(مفہوماً، شرح معانی الآثار، ج:۱، ص:۳۷۵)
ترجمہ:یہی بات امام طحاوی نے فرمائی کہ ام المومنین کا حجرہ مسجد کاحصہ ہے۔
ردالمحتار میں بدائع کے حوالے سے ہے:’’فی ردالمحتار عن البدائع لوصعدای المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانھا منہ لانہ یمنع فیھا من کل مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد‘‘۔(ردالمحتار، باب الاعتکاف، ج:۲، ص:۴۴۶، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ:ردالمحتار میں بدائع سے ہے اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلاً بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایک گوشہ ٹھہرا۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:’’ فصیل مسجد بعض باتوں میں حکم مسجد میں ہے معتکف بلا ضرورت اس پر جاسکتا ہے اس پر تھوکنے یا ناک صاف کرنے یا نجاست ڈالنے کی اجازت نہیں، بیہودہ باتیں، قہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اوربعض باتوں میں حکم مسجد نہیں اس پر اذان دیں گے اس پر بیٹھ وضوکر سکتے ہیں جب تک مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیں، دنیا کی جائز قلیل بات جس میں چپقلش ہو نہ کسی نمازی یا ذاکر کی ایذا اس میں حرج نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، ج:۶، ص:۴۷۳، رضااکیڈمی، ممبئی)
صدر الشریعہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’ اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں‘‘۔ (بہارشریعت، ح:۵، ج:۱، ص:۴۹۲، فرید بک ڈپو، دہلی)
اگر غسل خانہ حدودِ مسجد میں ہو تومعتکف کو جمعہ کے دن یا شدیدگرمی میں خاص کر جب یہ حالت ہوجائےکہ جسم سے پسینہ کی بدبوآتی ہوتواحترامِ مسجداورصفائی کے پیشِ نظرغسل کی اجازت ہوگی،حدیث شریف میں ہے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یأتینی وہو معتکف فی المسجد حتی یتکیٔ علی باب حجرتی، فأغسل رأسہ وأنا فی حجرتی، وسائر جسدہ فی المسجد‘‘۔(مسند احمد، ج:۴۱، ص:۱۱۱،مؤسسۃ الرسالۃ)
ترجمہ:حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہونے کی حالت میں میرے پاس آتے اور میرے حجرے سے ٹیک لگالیتے میں حجرے سے ہی آپ کے سرِ مبارک کو دھل دیتی،آپ کا پورا جسم مسجد میں ہوتا۔
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہے کہ اگر معتکف کو مسجد سے باہر نہ جانا پڑے تو پانی وغیرہ سے برودت حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حضور صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریات مسجد کے لیے ہے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ بلا اجازتِ شرعیہ اگر نکل کر (مسجد کے دروازے سے) باہر چلا گیاتو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ فنائے مسجد اس (اعتکاف کے) معاملہ میں حکمِ مسجد میں ہے‘‘۔(فتاوی امجدیہ، ج:۱، ص:۳۹۹،دائرۃ المعارف الامجدیہ، گھوسی)
قاضی القضاۃ فی الہند حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضاخاں قادری اور حضرت مفتی قاضی عبد الرحیم بستوی رحمہما اللہ کا تصدیق فرمودہ فتاوی کا مجموعہ ’’فتاوی بریلی‘‘ میں یوں ہے:’’پس اگر معتکف مسجد میں گرمی کی وجہ سے یا جمعہ کے لیے غسل کرنا چاہے تو مسجد کے فرش پر لحاف یا گدا واٹر پروف کپڑا نیچے رکھ لے (تاکہ پانی کا کوئی قطرہ مسجد کے فرش پر نہ گرے)تو اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے‘‘۔(فتاوی بریلی شریف،ص:۳۱۵،زاویہ پبلشرز، لاہور، پاکستان۲۰۰۴ء)
مذکورہ عبارت میں معتکف کو احتیاط کے ساتھ مسجد میں غسل کی اجازت کی طرف رجحان کو ظاہر کیا گیا ہے اور جب معتکف کو مسجد کی صفیل، اس سے بالکل متصل مدرسہ اور مینارے کا اگر دروازہ اندر ہو وہاں جانے کی اجازت ہے تو اگر حدودِ مسجد میں غسل خانہ ہوتو معتکف کو جمعہ اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے بھی غسل کی اجازت ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم


