
عنوان:رمضان میں بلاعذر روزہ چھوڑنے کا حکم
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام کہ رمضان میں بغیر عذر شرعی روزہ چھوڑنے پر صرف قضا ہے یا کفارہ بھی؟
سائل:احمد رضا، مصباحی،امرپور، پتھرا، گڈا جھارکھنڈ، انڈیا
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:رمضان المبارک کے روزہ رکھنافرض ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ‘‘۔(البقرۃ۱۸۳/۲)
ترجمہ:اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔(کنزالایمان)
حدیث شریف میں ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’أتدرون ما الإیمان باللہ وحدہ؟ قالوا: اللہ ورسولہ أعلم، قال: شہادۃ أن لا إلہ إلا اللہ و أن محمداً رسول اللہ، وإقام الصلاۃ، وإیتاء الزکاۃ، وصیام رمضان‘‘۔ الحدیث۔(صحیح البخاری، کتاب الإیمان، ج:۱، ص:۲۰، دار طوق النجاۃ)
ترجمہ:کیا تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: اللہ اور اُس کے رسول بہتر جانتے ہیں، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بیشک محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا، الحدیث۔
دوسری حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا:’’عری الإسلام وقواعد الدین ثلثۃ علیہن أسس الإسلام ، من ترک منھن واحدۃ فھو بھا کافر حلال الدم: شھادۃ ان لا إلٰہ إلا ﷲوالصلاۃ المکتوبۃ، وصوم رمضان‘‘۔(کنزالعمال،ج:۱، ص۲۸،مؤسسۃ الرسالۃ)
ترجمہ: اسلام کے رسے اور دین کے ستون تین ہیں جن پر اسلام کی بنیادیں ہیں جس نے بھی ان میں سے کسی ایک کو ترک کیا وہ کافر ہے اور اس کا خون مباح ہے، پہلی لا الٰہ الّااﷲ کی شہادت، دوسری نمازِ فرض، تیسری رمضان کا روزہ۔
حضرت ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے :’’سمعت رسو ل ﷲصلی ﷲتعالی علیہ وسلم یقول بیننا انا نائم اذا تانی رجلان فاخذا بضبعی فأتیابی جبلا وعرا،وساق الحدیث الی ان قال ثم انطلقا بی فاذاانا بقوم معلقین بعراقیھم مشققۃ اشد اقھم دماًقال قلت من ھٰؤلاء، قال الذین یفطرون رمضان قبل تحلۃ صومھم‘‘۔(صحیح ابن خزیمۃ، باب تعلیق المفطرین قبل وقت الافطار ،ج:۳، ص:۲۳۷، المکتب الإسلامی، بیروت)
ترجمہ:میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ میں سویا تھا میرے پاس دو آدمی آئے وہ مجھے اٹھا کر ایک پہاڑ پر لے گئے(تفصیلاً حدیث بیان کی جس کا ایک حصہ یہ ہے) پھر مجھے آگے لے گئے تو وہاں ایک قوم الٹی لٹکی ہوئی تھی ان کی باچھوں کو چیرا جارہاتھا جن سے خُون بہہ رہا تھا، فرمایا: میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا: یہ رمضان کا روزہ وقت آنے سے پہلے ہی افطار کر لیتے تھے۔
جب قبل از وقت روزہ افطار کرنے پر یہ عذاب ہے تو خود سوچیے بالکل روزہ نہ رکھنے پر کتنا عذاب ہوگا العیاذباﷲ،بلاعذرِ شرعی کے روزہ چھوڑنے والا شخص باجماعِ علما فاسق، فاجر مرتکبِ کبیرہ، عذاب الیم اور ذلّت عظیم کا مستحق ہے اس پر رمضان المبارک کے چھوڑے ہوئے روزے کی قضا فرض ہے البتہ کفارہ لازم نہیں ہے۔ علامہ علاء الدین کاسانی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’و أما وجوب الکفارۃ فیتعلق بإفساد مخصوص وہو الإفطار الکامل بوجود الأکل أو الشرب أو الجماع صورۃ ومعنی متعمدا من غیر عذرمبیح ولامرخص ولاشبہۃ الإباحۃ‘‘۔(بدائع الصنائع ، کتاب الصوم، ج:۲، ص:۹۸، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ترجمہ:اور رہا کفارے کا وجوب، تو وہ روزے کے مخصوص توڑنے پر ہے (یعنی چھوڑنے پر نہیں ہے)اور اس سے مرادقصداً کھانے ،پینے اورصورتاًیا معنیً جماع کرنے سے لازم آتاہےجب کہ یہ کسی عذرِ مبیح و مرخص یا اباحت کے شبہہ سے نہ ہو۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’ ایک روزہ کی قضا ایک ہی ہے ساٹھ کا حکم کفارہ میں ہے کہ کسی نے بلاعذر شرعی رمضان المبارک کا ادا روزہ جس کی نیت رات سے کی تھی بالقصد کسی غذا یا دوا یا نفع رساں شئی سے توڑ ڈالا اور شام تک کوئی ایسا عارضہ لاحق نہ ہوا جس کے باعث شرعاً آج روزہ رکھنا ضرورت نہ ہوتا تو اُس جُرم کے جرمانہ میں ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوتے ہیں ویسے(بلاعذرِ شرعی) جو روزہ نہ رکھا ہو اس کی قضا صرف ایک روزہ ہے ‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم، ج:۴، ص:۶۰۰، رضااکیڈمی، ممبئی)
رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں بلاعذرِ شرعی روزہ چھوڑناسخت گناہ اور حرام کام ہے جو مسلمان ایسا کرے اس پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل حرام سے توبہ کرے اور چھوڑے ہوئے روزہ کی قضا رکھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم


