
عنوان:کیا معتکف اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا معتکف اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے؟ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب
سائل:محمد احمد خان بدایوں
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:معتکف جس مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہے اس مسجد میں جماعت پنج گانہ کے لیے تکبیر (اقامت) کہہ سکتا ہے اگر اذان اسی مسجد میں کہے جس میں وہ اعتکاف میں بیٹھا ہے تو یہ بھی جائز ہے جب کہ اذان کی جگہ حدودِمسجد سے باہر نہ ہو اگر اذان کاکمرہ حدود مسجد میں ہے لیکن اس کاراستہ باہر سے ہے اسی طرح مسجد کے مینار پر اگر اذان پڑھی جاتی ہے اور اس کا راستہ باہر سے تب بھی مؤذن کو اذان پڑھنے کی اجازت ہوگی اور اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگاجیسا کہ مبسوط میں ہے:’’ولوکان رجل معتکف فی مسجد وہو مؤذن فصعد الی المنارۃ لم یفسد ذلک علیہ اعتکافہ ولوکان باب المئذنۃ خارجا من المسجد لم یفسد ذلک علیہ اعتکافہ‘‘۔(الأصل المعروف بالمبسوط، باب الاعتکاف، ج:۲، ص:۲۸۷، ادارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ، کراتشی)
ترجمہ: اگر کوئی مؤذن مسجد میں معتکف تھا اور وہ مسجد کے منارے پر چڑھا تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، اور اگرمنارے کا راستہ مسجد کے باہر سے ہو تب بھی اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔
ردالمحتار میں ہے:’’لوصعدای المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانھا منہ لانہ یمنع فیھا من کل مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد‘‘۔(رد المحتار مع الدر المختار، باب الاعتکاف، ج:۲، ص:۴۴۶، دارالفکر، بیروت)
ترجمہ: اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلاً بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایک گوشہ ٹھہرا۔
صدر الشریعہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’ اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں‘‘۔ (بہارشریعت، ح:۵، ج:۱، ص:۴۹۲، فرید بک ڈپو، دہلی)واللہ تعالیٰ اعلم


