
عنوان:نکاح پڑھانے والا سنی ہے یا وہابی معلوم نہیں اس کا حکم؟
کیا فر ما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں ایک لڑ کا ایک لڑ کی کو لے کر دہلی فرار ہوگیا وہاں جاکر وہ لوگ نکاح کر لئے لیکن کچھ مہینے رہنے کے بعد جب وہ لوگ گھر آے دولہا اور دلہن کے باپ دیگر سماج کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگ تجدید نکاح کرائیں گےطلب امر یہ بھی ہے نکاح پڑھا نے والا قاضی وہابی ہے یا سنی اس کے عقائد کے بارے میں معلو م نہیں لہذا ایسی صورت میں تجدید نکاح ضروری ہے یا نہیں مدلل ومفصل جواب دیں مع حوالہ۔
المستفتی محمد شاہد رضا قادری،چھاؤنی اشرف خاں، بریلی شریف
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:نکاح اس سے منعقد ہوتا ہے کہ مردو زن ایجاب و قبول کریں اور دو گواہ سنتے ہوں قاضی کا ہونا کچھ ضروری نہیں جیساکہ در مختار میں ہے:’’ینعقد بایجاب وقبول وشرط حضور شاھدین حرین ا وحر وحرتین مکلفین سامعین قولھمامعاً علی الاصح فاھمین انہ نکاح علی المذھب ،بحر‘‘۔اھ ملخصا ( درمختارکتا ب النکاح مجتبائی دہلی ۱/۸۶۔ ۱۸۵)
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:’’فان النکاح ینعقد بالایجاب والقبول اراد بہ ان النکاح ینعقد بالایجاب الشرعی‘‘۔اھ۔ (بنایہ شرح ہدایۃ جلد:۴، ص:۴۷۸، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’نکاح صرف اس سے ہو جاتا ہے کہ مرد و زن ایجاب و قبول کریں اور دو گواہ سنتے سمجھتے ہوں‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم ص:۸۹ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
اسی میں ہے:’’نکاح کے لئے فقط مرد وعورت کا ایجاب و قبول چاہیے اور دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کا اسی جلسہ میں ان کے ایجاب و قبول کو سننا اور سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بس اسی قدر درکار ہے اس سے زیادہ قاضی وغیرہ کی حاجت نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم جلد پنجم ص:۱۲۱مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
فتاوی دیداریہ میں ہے:’’رکن نکاح ایجاب و قبول اور شرطِ صحت نکاح دو گواہوں کا بوقت ایجاب و قبول ایک جلسہ میں مو جود ہونا ہے‘‘۔(فتاوی دیداریہ ص:۴۵۳، فتوی نمبر۱۶۱)
لہذا صورت مسئولہ میں اگر ایجاب وقبول شاہدین کی موجودگی میں پالئے گئے تو نکاح ہو گیا قاضی چاہے وہابی ہی کیوں نہ ہو دوبارہ نکاح پڑھانا ہرگز لازم نہیں ،لیکن چونکہ نکاح پڑھوانے میں تعظیم ہوتی ہے اور وہابی کی تعظیم حرام ہے لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ سے سوال کیا گیاکہ اگر وہابی نکاح پڑھائے تو ہوجائے گا یا نہیں؟ تو آپ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا:’’نکاح تو ہو ہی جائے گا اس واسطے کہ نکاح نام باہمی ایجاب و قبول کا ہے اگرچہ بامن پڑھادے، چونکہ وہابی سے پڑھوانے میں اس کی تعظیم ہوتی ہےجو حرام ہے لہذا احتراز لازم ہے‘‘۔(الملفوظ حصہ سوم ص:۱۵مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف)
دولہا و دلہن کے باپ اور سماج کے لوگوں کو چاہیے کہ اگر نکاح شرعی ہوچکا ہے تو تجدید نکاح کو لازم نہ سمجھیں اور بغیر لازم سمجھتے ہوئے اگر احتیاطاً تجدید نکاح کریں تویہ بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم


