
فتوی نمبر:791
عنوان: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم نے اپنی صاحبزادیوں کو جہیز دیا
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے علاوہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی کسی صاحبزای کوجہیز دیا یا نہیں یا کسی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی صاحبزادی کوجہیز دیا یا نہیں جہیز کی رسم کب سے شروع ہوئی؟ بینوا توجروا
المستفتی:مولانامحمد اکرم صاحب،بڑودرہ، گجرات
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب: جہیز اصل میں عربی زبان کے لفظ جہاز سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ضرورت کا سامان تیار کرنا یا مہیا کرنا خواہ مسافر کے رخت سفر کے لیے ہو یا دلہن کو گھر بسانے کے لیے یا میت کو قبر تک پہنچانے کے لیے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’وَ لَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ‘‘۔ (سورہ یوسف، ٥٩)
ترجمہ :اور جب ان کا سامان مہیا کر دیا (کنز الایمان)
المعجم الوجیز میں ہے:’’(الجھاز) جھاز کل شیئ ما یحتاج الیه یقال جھاز العروس‘‘۔ (المعجم الوجیز ص:١٢٣ جمھور المصر العربیۃ)
التعریفات الفقہیہ میں ہے:’’الجھاز ما زفت المرأۃ بھا الی زوجھا من الامتعۃ، و ایضا جھاز المیت و العروس والمسافر ما یحتاجون الیه‘‘۔(التعریفات الفقهية، حرف الجیم، ص:٧٤ دار الکتب العلمیہ)
مروجہ رسم جہیز کا دین اسلام میں کوئی تصور نہیں ملتا، بلکہ شریعت اسلامیہ میں نکاح کے لیے مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ نان و نفقہ اور ضرورت کے سامان پر قدرت رکھتا ہو تو نکاح کر سکتا ہے لہذا عورت کے لیے نکاح میں کوئی خرچ شرعی اعتبار سے ضروری نہیں، بلکہ اس کو مہر کی صورت میں مال دیا جاتا ہے اور مرد کی عورت پر فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت پر اپنا مال خرچ کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ‘‘۔ (سورہ نساء، ٣٤)
ترجمہ :مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے (کنز الایمان)
امام فخر الدین رازی اس آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:’’انما فضل الرجال علي النساء في الميراث، لان الرجال قوامون علي النساء، فانهما وان اشتركا في استمتاع كل واحد منهما بالآخر، امر اللّٰه الرجال ان يدفعوا اليهن المهر ويدروا عليهن النفقة‘‘۔(تفسير الفخر الرازي، ج:١٠، ص:٩١، دار الفكر)
مروجہ جہیز کی رسم ہندوانہ ہے کیوں کہ ان کے یہاں لڑکیوں کو باپ کی وراثت سے کوئی حصہ نہیں ملتا، اسی لیے شادی کے موقع پر ان کے یہاں رسم جہیز کا رواج ہے اور یہیں سے یہ رسم مسلمانوں میں در آئی ہے جب کہ شریعت اسلامیہ میں اس کا کوئی تصور نہیں ملتا، بلکہ اسلام نے رشتہ ازدواج کو آسان عمل بنایا ہے جس میں اسراف کی قطعا اجازت نہیں، بلکہ سب سے بہتر وہ نکاح ہے جس میں بوجھ یا خرچ کم ہو۔
حدیث پاک میں ہے:’’عن عائشۃ قالت قال النبی صلی الله علیہ وسلم ان اعظم النکاح برکة ایسرہ مؤنة‘‘۔(مشکاۃ المصابیح مع شرح مرقاۃ المفاتیح باب النکاح ج:٦، ص:٢٥٠، دار الکتب العلمیہ)
اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ الله علیہ تحریر فرماتے ہیں:’’(ایسرہ مؤنة) یہ کلمہ نہایت جامع ہے یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے، مہر بھی معمولی ہو، جہیز بھاری نہ ہو، کوئی جانب مقروض نہ ہو جائے، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو الله کے توکل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی با برکت ہے ایسی شادی خانہ آبادی ہے، آج ہم حرام رسموں بیہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بلکہ خانہا بربادی بنا لیتے ہیں اللہ تعالی اس حدیث پاک پر عمل کی توفیق دے ( مرآۃ المناجیح ج:٥، ص:٣٠، مکتبہ ادبی دنیا دہلی)
حضور صلی الله علیہ وسلم کا طریقۂ نکاح بھی ہمارے لیے نمونۂ عمل ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کو بھی جہیز دینے کا ذکر نہیں ملتا، اور کتب احادیث و تواریخ میں کہیں اس کی صراحت نہیں ملتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کے علاوہ کسی دوسری بیٹی( حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم رضی الله عنہن) کو سامان جہیز دیا ہو بلکہ حضرت فاطمہ کو سامان جہیز حضرت علی کے ادا کردہ مہر کی رقم سے دیا گیا تھا، اور سامان دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیوں کہ حضرت علی رضی الله عنہ شروع ہی سے حضور صلی الله علیہ وسلم کی کفالت میں تھے تو حضرت علی کے پاس اس وقت ضرورت کا سامان اور ذاتی گھر نہیں تھا اسی وجہ سے جب انہوں نے حضور کی بارگاہ میں حضرت فاطمہ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ تو حضرت علی نے عرض کی کہ میرے پاس گھوڑا اور زرہ ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میرے پاس گھوڑا اور اونٹ ہے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو تمہارے لیے ضروری ہے لیکن زرہ کو فروخت کر دو تو حضرت علی نے زرہ کو حضرت عثمان بن عفان کے ہاتھ بیچ کر وہ قیمت(دراہم) حضور کی بارگاہ میں پیش کی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے کچھ دراہم مٹھی میں لے کر ارشاد فرمایا اے بلال! اس کی خوشبو خرید لاؤ اور فرمایا کہ اس رقم سے جہیز تیار کرو، لہذا حضرت فاطمہ کے لیے ضرورت کا ساز و سامان اس رقم سے منگوایا گیا تھا جو حضرت علی نے حق مہر میں ادا کی تھی، ورنہ اگر اس سے مقصود جہیز دینا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم دیگر بنات طیبات کو بھی سامان جہیز دیتے لیکن آپ کی دیگر شہزادیوں کا نکاح جن کے ساتھ ہوا ان کے یہاں ضرورت کا سامان پہلے سے ہی موجود تھا اسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم کی جانب سے بوقت نکاح ان کو سامان جہیز نہیں دیا گیا۔
صحیح ابن حبان، مجمع الزوائد وغیرہ مختلف کتب احادیث میں ہے:’’قلت: يا رسول الله، قد علمت قدمي في الاسلام ومناصحتي، واني واني، قال: وما ذاك؟ قلت: تزوجني فاطمة، قال: وعندك شيئ؟ قلت: فرسي وبدني، قال: اما فرسك فلا بد لك منه واما بدنك فبعها، قال فبعتها باربع مئة و ثمانين، فجئت بها حتي وضعتها في حجره، فقبض منها قبضة، فقال اَىْ بلال، ابتغنا بها طيبا وامرهم ان يجهزوها فجعل لها سريرا مشرطا بالشرط، ووسادة من ادم حشوها ليف‘‘۔(صحيح ابن حبان، ج:٥، ص:٣٩٤ مؤسسة الرسالة)
حدیث شریف میں ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضور سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کے پاس پیغام نکاح لے کر آئے، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’هل عندك من شيئ تستحلها به؟ قلت: لا والله يا رسول الله، فقال ما فعلت الدرع التي سلّحتكها؟ فقلت: عندي، والذي نفس علي بيده انها لحطمية، ما ثمنها اربع مئة درهم، قال: قد زوجتكها، فابعث بها فإن كانت لصداق فاطمة بنت رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم‘‘۔ (ذخائر العقبى في مناقب ذوى القربى، ص:٦٦)
کتب احادیث و تواریخ میں ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب رضوان اللہ تعالی عنہم نے اپنی جانب سے شادی کے موقع پر اپنی بیٹیوں کو سامان جہیز دیا ہو۔ جو گھریلو ضروری سامان حضرت فاطمہ رضی الله تعالی عنہا کو دیا گیا تھا وہ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کے ادا کردہ مہر کی رقم سے خریدا گیا تھا جیسا کہ مذکورہ روایات میں گزرا، تو لڑکی کے باپ کی جانب سے اپنی رقم سے جہیز دینا عند التحقیق سنت سے ثابت نہیں، ہاں اگر نمود و نمائش کے بغیر والدین اپنی بیٹی کو خوشی سے تحفۃً کوئی سامان دیں تو یہ جائز ہے، لیکن لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ کرنا ناجائز و حرام ہے۔
مسند احمد اور کنز العمال میں ہے:’’الا لا يحل مال امرئ مسلم الا بطيب نفسه‘‘۔ (كنز العمال، ج:٥، ص:١٣٠ مؤسسة الرسالة)
یوں ہی نمود و نمائش اور نام وری کے ساتھ جہیز دینا جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرہ میں رائج ہے کہ سامان جہیز دیکھنے کے لیے لوگوں کو جمع کیاجاتا ہے، سجا کر سب کو دکھایا جاتا ہے، باقاعدہ سامان کی فہرست بنائی جاتی ہے، جس سے مروجہ جہیز کی بدعت مزید فروغ پاتی ہے اور لڑکیوں کا نکاح مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے جس سے معاشرے میں کثیر خرابیوں کا وجود ہوگیا ہے، ایسے مروجہ جہیز کی شریعت میں کوئی اصل نہیں بلکہ یہ خرافاتیں ناجائز و حرام ہیں۔ والله تعالی اعلم


