
عنوان:شوہربدکار، نشیڑی اور شرابی ہو تو کیا عورت اس سے خلع لے سکتی ہے؟
علما و مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ زید نے انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذریعہ ایک پولینڈ کی لڑکی ہندہ کو مسلمان کرکے اس کے ساتھ شادی کی، نکاح کویت میں ہوا۔ اس کے بعد دونوں انگلینڈ چلے گیے وہاں ان کی ایک بیٹی ہوئی۔ لندن میں بیٹی ہونے کے بعد تک بظاہر زید ٹھیک رہا مگر کچھ عرصہ بعد اس کے کرتوت آنا شروع ہوگیے مگر غلط فہمی کا فائدہ اٹھایا اور معاملہ رفع دفع ہوگیا مگر پھر اچانک کیا ہوا پتہ نہیں زید کھلے عام شروع ہوگیا شراب نوشی، ڈرگز کا استعمال، زناکاری حتی کہ شراب و کباب کی محفل گھر پر زوجہ کے سامنے شروع ہوگیا اور زوجہ کو گندی گالیاں اور مارنا پیٹنا شروع اور اس کو گھر سے بھی نکال رہا ہے اور کہتا ہے چلی جا اپنی بیٹی کو لے کر اور طلاق بھی نہیں دوں گا۔ ہندہ اب اپنے گھر واپس بھی نہیں جا سکتی کیوں کہ اس کو کوئی قبول نہیں کرتا کیونکہ مسلمان ہوگئی یہ اور اگر جائے تو مارے جانے کا خدشہ ہے اور وہیں لندن میں رہنا چاہتی ہے مگر وہ بدمعاشی پر اترا ہوا اس نے حق مہر بھی ادا نہیں کیا نہ ہی نان و نفقہ ادا کر رہا ہے ہندہ کی تنخواہ بھی بہت قلیل ہے۔
ایسی صورت میں خلع ہوسکتا ہے جب کہ خاوند بالکل ہٹ دھرمی پر ہو کہ میں نہیں چھوڑنا چاہتا رکھنا بھی نہیں چاہتا۔بینوا توجروا
سائل:احمد رضا غوثیہ ملنگ،پاکستان
باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی
الجواب:شراب نوشی ، زنا کاری اور بلاوجہ گالی گلوج کرنا حرام بد انجام شیطانی کام ہیں ۔ شراب نوشی کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّماَ الْخَمْرُ وَ الْمَیْسَرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ‘‘۔(البقرۃ۲/۲۲۹)
ترجمہ:بیشک شراب، جوا، بت پرستی اور تیروں سے فال نکالناناپاکی(اور) شیطان کا کام ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اجتنبوا الخمر فانہا أم الخبائث‘‘۔(کشف الخفاء، جلد اول،ص:۴۵۹)
ترجمہ:یعنی تم شراب سے بچو کیوں کہ وہ برائیوں کی جڑ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے:’’مدمن الخمر ان مات لقی اللہ کعابد وثن۔الحدیث۔(مسند أحمد بن حنبل،جلد اول،ص:۲۷۲)
ترجمہ:یعنی شرابی اگر بے توبہ مرے تو اللہ تعالیٰ کے حضور اس طرح ہوگا جیسے کوئی بت پوجنے والا۔
زناکاری کی قباحت و شناعت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’وَلاَتَقْرَبوُا الزِّنیٰٓ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّسَاءَ سَبِیْلاً‘‘۔(بنی اسرائیل۱۷/۳۲)
ترجمہ:اور زنا کے قریب نہ جاؤکہ وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔
برتقدیرِ صدقِ سوال اگر زید اپنی ان بے ہودہ و خلاف شرع حرکتوں اور شناعتوںسے باز نہ آئے تو اہل ایمان اس کا بائیکاٹ کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’واما ینسینک الشیطن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین‘‘۔(الأنعام/۶۸)
ترجمہ:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
کوئی عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ حدود شرع میں رہ کر زندگی نہیں گزار سکتی ہو تو اس کے لیے مال کے عوض طلاق لینا یامہر معاف کرکے خلع کرناشرعاًجائز ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّیُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَاافْتَدَتْ بِہٖ‘‘۔ (پارہ؍۷ سورۂ مائدہ، آیت:۸۹)
ترجمہ:اگر تمہیں ڈر ہے کہ عدل کے طور پر دونوں حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو (خلع کے طور پر عورت کی طرف سے)فدیہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مال کے بدلے میں ازالۂ نکاح کو خلع کہتے ہیں جیساکہ فتاوی عالم گیری میں ہے:’’الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع کذا فی فتح القدیر وقد یصح بلفظ البیع والشراء ‘‘۔(الفتاوی الہندیۃ، فصل فی شرائط الخلع وحکمہ، ج:۱، ص:۴۸۸، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ:لفظ خلع کے ذریعہ ملک نکاح کوزائل کرنا خلع کہلاتا ہے ایسا ہی فتح القدیر میں ہےلفظ بیع و شرا کے ذریعہ بھی صحیح ہے ۔
صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:’’مال کے بدلے نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں عورت کا قبول کرنا شرط ہے۔‘‘(بہار شریعت، حصہ؍۸،ص:۷۵۷)
خلع کے الفاظ بھی متعین ہیں جیساکہ فتاوی شامی، جلد پنجم،ص:۹۱؍پر ہے:’’و الفاظ الخلع خمسۃ: خالعتک، باینتک، بارأتک، فارقتک، طلقی نفسی علی الف‘‘۔اھ۔
صورت مسئولہ میں ہندہ کی اگر اپنے شوہر کے ساتھ نبھاؤ کی موافقِ شرع کوئی صورت نہ ہو تو وہ مال کے بدلے اپنے شوہر زید سے طلاق بھی لے سکتی ہے یا اپنے مہر کو معاف کرکے خلع کر لے یعنی زید مہر کے مال کے بدلے میں عورت سے الفاظ خلع میں سے کوئی ایک لفظ کہہ دے تو خلع ہوجائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم


