عنوان:علما و ائمہ کی تو ہین اور ٹی وی، ویڈیو کا حکم؟

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے کچھ ماہ قبل ویڈیو کلپ بنائی جس میں اشعار کے ذریعہ علمائے کرام کی اہانت کی گئی ۔ مثال کے طور پر ایک شعر میں زید کہتا ہے کہ
برکت اٹھ گئی ہے دنیا سے اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں
امام بگڑے ہیں مسجد کے بے چاری امت کا کوئی قصور نہیں
دوسرے شعر میں کہتا ہے کہ
بنے گا دوزخ کا ایندھن بڑے بڑے علما اورمولوی
حدیث ہے یہ میرے نبی کی مشتاق کا اس میں کوئی قصور نہیں
ایک اور شعر میں کہتا ہے
مسجدوں کو کھیل کود کا میدان بناتے دکھائی دیتے ہیں
آج کے امام امت کو الو بناتے دکھائی دیتے ہیں
مزید ایک شعر میں کہتا ہے
کہتے تھے کل کہ حرام ہے یہ ٹی وی ویڈیو کیمرہ
وہی بد معاش عالموں رات دن ٹی وی پر دکھائی دیتے ہیں
ایک جگہ کہتا ہے
آیا وکت بڑا بے ڈھنگا آج امام بنا بے ڈھنگا
کہیں پہ جھگڑا یہ کروائیں کمیٹیوں کو خوب نچائیں
صورت مسئولہ میں از روئے شرع زید پر کیا حکم شرع عائد ہوگااور کیا وہ مسجد کا ممبر عمومی یا کمیٹی ممبر رہ سکتا ہے جو پوری قوم میں بد امنی اور شر کا باعث ہے؟ جواب دے کر رہنمائی فرمائیں۔

سائل:محمد محسن، بولٹن، انگلینڈ

باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی

الجواب:بصورت صدقِ سائل اگر واقعی زید نے اپنی یا کسی جاندار کی ویڈیو کلپ بنائی تو ناجائز وحرام کام کیاکیوںکہ تصویر کشی حرام ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون۔(صحیح البخاری ۸۸۰/۲)
ترجمہ:بیشک سب سے زیادہ سخت عذاب روزِقیامت مصوّروں پر ہوگا۔
کل مصور فی النار یجعل ﷲ لہ بکل صورۃ صورہ نفسا فتعذبہ فی جہنم ۔(صحیح مسلم، ۲/ ۲۰۲)
ترجمہ:ہر مصور جہنم میں ہے اللہ تعالی ہر تصویر کے بدلے جو اس نے بنائی تھی ایک مخلوق پیدا کرے گا کہ وہ جہنم میں اسے عذاب کرے گی۔
قالﷲ تعالٰی ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی فلیخلقوا ذرۃ اولیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ۔ (صحیح بخاری ۲/ ۸۸۰)
ترجمہ:اللہ عزوجل فرماتاہے اس سے بڑھ کر ظالم کون جو میرے بنائے ہوئے کی طرح بنانے چلے بھلا کوئی چیونٹی یا گیہوں یا جو کا دانہ توبنادیں۔
علمائے کرام اور ائمہ حضرات کی شان میں توہین اور بلا ثبوت شرعی ان پر الزامات لگانے اور ایسے اشعار کہ جن کی وجہ سے لوگ علما و ائمہ سے دور و نفور ہوں ویڈیو کلپ بنا کر ان کو عام کرنے کی ہر گز ہرگز اجازت نہیں۔سنی صحیح العقیدہ علمائے کرام جو لوگوں کو حق کی طرف بلاتے ہیں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نائب ہیں ان کی تحقیر معاذاللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی توہین ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جناب میں ادنی گستاخی موجب لعنت الٰہی و عذاب الیم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
’’ثلثۃ لا یستخف بحقہم الا منافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم والامام المقسط‘‘(المعجم الکبیر جلد ۸؍ص:۲۳۸/کنزالعمال جلد۱۶؍ص:۳۲)
ترجمہ:یعنی تین شخصوں کے حق کو ہلکا نہ جانے گا مگر منافق، کھلا منافق۔ ایک وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا ہو۔ دوسرا علم والا۔تیسراامامِ عادل۔
بلاوجہ شرعی کسی سنی صحیح المذہب کو برا کہنا یا اس کی تحقیر کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ اس میں مسلمان کی ناحق ایذا ہے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
لا یبغی علی الناس الا ولد بغی والا من فیہ عرق منہ۔(مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر جلد۵؍ ص:۲۳۳)
ترجمہ:لوگوں پر ظلم و تعدی نہ کرے گا مگر حرامی یا وہ جس میں کوئی رگِ ولادت زنا کی ہو۔
اگر زید علما وائمہ کی توہین صرف اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ علما و ائمہ ہیں تو صریح کفر ہے۔ (مگر ایک مسلمان کے حق میں ایسا گمان ہرگز نہیں) اور اگر کسی دنیاوی وجہ سے تو فاسق و فاجر ہے۔ جیسا کہ منح الروض الازہر میں ہے:
من ابغض عالما بغیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر(منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر ،فصل فی العلم والعلماء، ص:۱۷۳)
ترجمہ:جس نے سبب ظاہری کے بغیر کسی عالم سے بغض رکھا اس پر کفر کا خوف ہے۔
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر عالم کو اس لئے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے تو صریح کافر ہے اور اگر وجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہےمگر اپنی کسی دنیاوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے تو سخت فاسق فاجر ہے، اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم نصف اول ص:۱۴۰)
علماو ائمۂ کرام یا سنی صحیح العقیدہ مسلمان کے اندر کوئی کمی یا خامی ہے اور وہ اس کے سبب فاسق معلن نہیں ہے تو اس وقت تک اس کو بھی بلا وجہ شرعی عام کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ غیبت ہے جیسا کہ صدرالشریعہ بدرالطریقہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:
غیبت کے یہ معنی ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا(بہار شریعت حصہ ۱۶؍ ص:۱۴۹)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے غیبت کی قباحت و شناعت قرآن قریم کے اندر یوں بیان فرمائی ہے:
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ(الحجرات ۱۲/۴۹)
ترجمہ:تم آپس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے اس کو تو تم بُرا سمجھتے ہو۔
حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
لا تبا غضوا ولاتحا سدوا ولا تدابروا وکونواعبادﷲ اخوانا(صحیح البخاری، ۲/۲۹۷)
ترجمہ:بغض نہ رکھو، حسد اور غیبت نہ کرو اور اﷲ کے بندے بن کر بھائی بھائی ہوجاؤ۔
زید اپنی ان حرکات و خرافات سے باز آئے اور علماو ائمہ کا احترام کرے اگر ان میں یا کسی مسلمان میںکوئی شرعی خامی ہے تو نہ تو اس کا بر سر عام بلا وجہ شرعی افشا جائز اور نہ ہی ان کی غیبت کی اجازت۔
جوانسان بھی قوم میں بد امنی کا باعث ہو اس کو عوامی کاموں سے دور رکھا جائے تاکہ قوم افتراق و انتشار سے محفوظ رہے۔ واللہ تعالیٰ أعلم

Previous articleکیا معتکف اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے؟
Next articleنکاح پڑھانے والا سنی ہے یا وہابی معلوم نہیں اس کا حکم؟